12 جون 2012 - 19:30

آیت الله جوادی آملی نے تاکید کی : عمل کی دنیا میں اهل شهوت و غضب اور نظریات کی دنیا میں اھل وھم وخیال توحیدی ایات کا ادراک نہیں کرسکتے ۔ جیسے کہ قران تمام انسانوں کے لئے ھدایت ہے «هدی للناس» مگر متقین ہی اس سے ھدایت پاتے ہیں اور «شفاء للناس» مگر متقین ہی شفاعت پاسکتے ہیں ۔

ابنا: حضرت آیت الله جوادی آملی نے علماء وافاضل حوزہ علمیہ قم کے مجمع میں تفسیر کے درس میں سوره مبارکه نمل کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : مرحوم امین الاسلام [طبرسی، صاحب مجمع البیان] جیسے بعض شیعہ مفسرین کے لئے رجعت کا مسئلہ اتنا زیادہ یقینی و قطعی ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ رجعت کا مسئلہ ھمارے نزدیک روایات سے ثابت نہیں بلکہ اجماع قطعی امامیہ ثابت ہے اورروایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے اس استاد نے ایت شریفہ «أَلَمْ یَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا اللَّیْلَ لِیَسْکُنُوا فِیهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ» کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ ایت توحید ربوبی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ یہ دنیا اور زمین کی حرکت اتنی زیادہ منظم ہے کہ دن ورات ، فصلیں اور علاقے خاص محاسبات کے تحت ایک دوسرے سے فاصلہ پر ہیں ۔ اس نظم کو دیکھیں اور توحید الھی کو سمجھیں ۔

انہوں نے مزید کہا : عمل کی دنیا میں اهل شهوت و غضب اور نظریات کی دنیا میں اھل وھم وخیال توحیدی ایات کا ادراک نہیں کرسکتے ۔ جیسے کہ قران تمام انسانوں کے لئے ھدایت ہے «هدی للناس» مگر متقین ہی اس ھدایت سے استفادہ کرپاتے ہیں اور «شفاء للناس» مگر متقین ہی شفاعت پاسکتے ہیں ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے کہا : اگر شھرعلم کا دروازہ کھلا ہوتا ، کیوں کہ «انا مدینۀ العلم و علی بابها» حضرت علی علیه السلام سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام ائمہ علیھم السلام باب شھر علم نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم ہیں ، ولایت باب علم نبوت ہے ۔ تو بہت ساری معلومات حاصل ہوتیں