11 جون 2012 - 19:30

وزارت خارجہ کےترجمان رامین مہمان پرست نےمنگل کےدن اپنی ہفتےوار پریس کانفرنس میں سعودی عرب میں کچہ ایرانی شہریوں کی سزائےموت پرافسوس ظاہرکرتےہوئےکہاہے کہ سعودی عرب کواپنےاس اقدام کاسیاسی اورقانونی نتیجہ بھگتناپڑےگااورایران اس مسئلےکاعالمی کنونشنوں کےذریعےجائزہ لےگا۔

ابنا: ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نے سعودی حکام کی جانب سےاس اقدام کےبارےمیں متضاد بیانات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ سعودی حکومت کو بین الاقوامی کنونشنوں اورایرانی شہریوں کومشاورتی دسترس کےحق کااحترام کرناچاہئےتھا۔

آٹھ ایرانی شہریوں کو تقریباآٹھ سال پہلے سعودی عرب میں منشیات لےجانےکےالزام میں گرفتار اورموت کی سزاسنائی گئي تھی جبکہ ریاض نے کیس کی سماعت کےدوران انھیں مترجم تک کی سہولت فراہم نہیں کی۔

سعودی عرب میں کچہ ایرانی شہریوں کوپھانسی دیئےجانےکی خبرکی تصدیق کےبعد تہران ميں سعودی عرب کےناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیاگیا ۔

وزارت خارجہ کےانفارمیشن سنٹرکی رپورٹ کےمطابق تہران میں سعودی سفیرکی غیرموجودگی میں سعودی عرب کےناظم الامور حسن زید کوکل وزارت خارجہ ميں طلب کیاگیااورسعودی عرب کےاس غیرانسانی اقدام پرشدید احتجاج کیاگیا۔

تہران نے اس سلسلےمیں سعودی حکومت سےفوری وضاحت طلب کی ہے ۔اس سےقبل سعودی عرب میں بعض ایرانی شہریوں کی سزائےموت کی افواہ پر تہران میں سعودی سفیرکووزارت خارجہ میں طلب کیاگیاتھا اورسعودی سفیرکوتحریری نوٹ دیاگیاتھاجس میں سزائےموت پرعمل درآمد نہ کئےجانےکی اپیل کی گئی تھی ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کےوزیرخارجہ علی اکبرصالحی نے بھی اپنےسعودی ہم منصب سعودالفیصل سےٹیلی فون پربات چیت کی تھی اورسعودی سفیرنے کہاتھاکہ ان افراد کی سزاپرعمل کوروک دیاگیاہے۔

درحقیقت ان برسوں کےدوران سعودی عرب میں ایران کےسفارت خانےکو ایرانی شہریوں تک کسی قسم کی دسترس حاصل نہیں تھی جبکہ تہران اور ریاض ویاناکنونشن کےرکن ہيں اورقونصلی معاہدےکےمطابق ایران کواپنےشہریوں تک دسترس کاحق حاصل تھا۔

ایک عرصےسےایرانی شہریوں سےآل سعود کی دشمنی کسی پرڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن نئی بات یہ ہےکہ سعودی حکام کی جانب سے اس طرح کےاقدام کھل کرایران دشمنی میں اٹھائےجارہےہیں۔

اس بیچ واضح ہےکہ جوچیز سعودی حکام کی جانب سےاس طرح کےغیرروایتی رویہ اختیارکئےجانےکاباعث ہورہی ہے وہ ایک طرف سعودی عرب کی جانب سےامریکہ کی پیروی ہے اوردوسری جانب ایران کےعلاقائی ملکوں بالخصوص خلیج فارس کےممالک کےساتھ تعلقات کوخراب کرنےکی کوشش ہے۔ ایسےعالم میں جب سعودی حکام کوملک میں عوامی انقلاب کی لہرشروع ہونےکاخوف ہے جس کےہاتھ بحرین کےمظلوم عوام کےخون میں بھی رنگےہوئےہيں ۔

سعودی حکام کےایران مخالف بیانات اب کھل کرسامنےآگئےہيں اوران میں روزبروزمداخلت پسندانہ رنگ پیداہوتاجارہا ہے۔

ریاض حکام بہ زعم خود بعض دوسرےملکوں کےساتھ مل کرایسی تحریکوں کوبڑھاوا دے رہےہيں جن کاآخری مقصد ایران پردباؤ بڑھانا اوراسلامی بیداری کی عظیم تحریک کوکنٹرول کرناہے اوریہی امر ایران کےخلاف دشمنانہ اقدامات کی اصلی وجہ بھی ہے۔

بہرحال اسلامی جمہوریہ ایران ،سعودی عرب کےاس اقدام کو اسلامی معیارات اوربین الاقوامی قوانین کےبرخلاف سمجھتا ہے اور عالمی اداروں میں اس مسئلےکا جائزہ لینےکےساتھ ہی اس قسم کےاقدامات کےسیاسی اورقانونی حقوق کےنتائج کا ذمہ دارسعودی حکام کوسمجھتاہے۔....... /169