اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ آٹھ جون (2012) کو شام کے وقت آل خلیفہ اور آل سعود کے غاصبین و قابضین اور کرائے کے بیرونی جلادوں نے پرامن احتجاجی مظاہروں پر ہلہ بول دیا اور مظاہرین پر گولیاں اور آنسو گیس و زہریلی گیس کے گولے پھینکتے ہوئے عوام کے گھروں سے بھی غافل نہ ہوئے اور اپنے غیرانسانی معمول کے مطابق گھروں میں بھی زہریلی گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں اسی سالہ بحرینی خاتون "محترمہ مریم ناصر عبداللہ" کا دم گھٹ گیا اور وہ اسی دن رات کے وقت خالق حقیقی سے جا ملیں اور یوں بحرین کے انقلاب کرامت کے شہداء کی تعداد ستاسی ہوگئی۔ 14 فروری کے انقلابی نوجوانوں کے اتحاد نے اپنے بیان میں اس بزرگ خاتون کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ واضح رہے کہ بحرین پر قابض سعودی اور خلیفی فورسز کے گماشتے گلیوں میں معمول کا گشت کرتے ہوئے بھی لوگوں کے گھروں میں زہریلی گیس کے گولے پھینک کر تفریح کرتے ہیں؛ اور انہیں فرق نہيں پڑتا کہ عوام احتجاج کررہے ہیں یا گلیاں اور سڑکیں سنسان ہیں۔ وہ لوگوں کے گھروں میں گولے پھینک کر خوش ہوتے ہيں اور لگتا ہے کہ ان کے سرغنوں کی طرف سے حکم ہے کہ انہیں لوگوں کو اذیت و آزار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے۔

شہیدہ مریم ناصر عبداللہ انقلاب بحرین کی ستاسی ویں شہیدہ ہیں جبکہ سولہویں خاتون ہیں جو شہیدوں کے قافلے میں شامل ہوگئی ہیں۔ادھر جمعیۃالعمل الاسلامی کے راہنما سید جعفر العلوی نے اتوار کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تشدد اور قتل و غارت کا سلسلہ ایک خاص ارادی ایجنڈے کا حصہ ہے کیونکہ ستاسی شہیدوں کے علاوہ سینکڑوں بحرینی آج تک گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوئے ہیں اور محترمہ مریم ناصر عبداللہ سرکاری فورسز کی طرف سے ان کے گھر پر پھینکے گئے زہریلی گیس کے گولے کا نشانہ بن کر شہید ہوگئی ہیں۔ انھوں نے کہا: خلیفیوں سے وابستہ ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ بزرگ خاتون پھیپھڑوں کی تکلیف کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں لیکن حکومت حقائق بتانے سے احتراز کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انقلاب بحرین کے آغاز سے اب تک پندرہ خواتین شہید ہوگئی تھیں اور مریم ناصر عبداللہ سولہویں خاتون ہیں جو قافلہ شہداء سے جا ملی ہیں اور اکثر شہید خواتین کی مانند زہریلی گیس ان کی شہادت کا سبب بنی ہے۔
................/110