6 جون 2012 - 19:30

علامہ ساجد نقوی کا کہنا ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد سیدہ زینب س نے کوفہ و شام میں جس جرات و بیباکی سے حق وصداقت کا پیغام پہنچایا اور فصاحت و بلاغت سے مزین خطبے ارشاد فرمائے یہ انہی خطبات کا اثر ہے کہ حسینیت کے مقابلے میں یزیدیت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ابدی شکست سے دوچار ہو چکی ہے۔

ابنا: اپنے ایک اخباری بیان میں علامہ ساجد نقوی نے کہا ہے کہ نواسی پیغمبر گرامی ص اور دختر امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ع، جناب سیدہ زینب س کا فیصلہ کن کردار تاریخ کا ایک روشن اور درخشندہ باب ہے۔ توحید شناس عظیم باپ کی توحید شناس عظیم دختر کے تمام کٹھن مراحل اور مصائب و مشکلات کے باوجود ان کے صبر و حوصلے اور جرات و شجاعت کی بدولت پیغام کربلا آج بھی اپنی تمام تر اثر انگیزیوں کے ساتھ زندہ و جاوید ہے اور حریت و آزادی پر مبنی تحریکیں آج بھی اس سے رہنمائی حاصل کئے ہوئے ہیں۔

پیغمبر اکرم ص کی نواسی، امیرالمومنین حضرت علی ع اور جناب سیدہ فاطمہ زہرا س کی دختر جناب سیدہ زینب س کی کے روز شہادت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بی بی اپنی والدہ گرامی جناب سیدہ فاطمتہ الزہرا س کی سیرت و کردار کا عملی نمونہ تھیں، انہوں نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے اور خواتین عالم کی رہبری کے لئے لازوال جدوجہد کی، جس سے رہنمائی حاصل کرکے دور حاضر کی خواتین اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھال سکتی ہیں۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ واقعہ کربلا کے بعد سیدہ زینب س نے کوفہ و شام میں جس جرات و بیباکی سے حق وصداقت کا پیغام پہنچایا اور فصاحت و بلاغت سے مزین خطبے ارشاد فرمائے، یہ انہی خطبات کا اثر ہے کہ حسینیت کے مقابلے میں یزیدیت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ابدی شکست سے دوچار ہو چکی ہے اور اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود ناکام و نامراد ہے۔ درحقیقت انہوں نے دین حق کی تبلیغ کرتے ہوئے معلمہ کے طور پر لازوال اور ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔

علامہ ساجد نقوی نے عالم اسلام کی خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنی فلاح اور نجات کو مغربی معاشروں میں ڈھونڈنے کی بجائے جناب سیدہ زینب س کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں کا شعار بنائیں، کیونکہ صرف اسی صورت میں ہی دنیوی اور اخروی نجات کا سامان فراہم ہو سکتا ہے۔

.......

/169