4 جون 2012 - 19:30

ايران کے خلاف امريکا اور صہیوني ریاست کے مشترکہ سائبر حملوں کي خبريں منظر عام پر آنے کے بعد امريکي ذرائع نے خدشہ ظاہر کيا ہے کہ ايران کي جوابي کاروائي زيادہ خطرناک ہوسکتي ہے -

ابنا: فاکس نيوز ٹي وي چينل نے جو امريکا کے جنگ پسند حلقے کے قريب سمجھا جاتا ہے،   اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ امريکا اور اسرائيل کے حاليہ سائبر حملوں پر ايران کي انتقامي کارروائي امريکا کي قومي سلامتي کو خطرے ميں ڈال سکتي ہےـ

سائبر ماہرين کا کہنا ہے کہ اسٹکس نيٹ، ڈوکو  اور پھر فليم نامي وائرس ايران کي ايٹمي صنعت کے خلاف امريکا کے  سائبر حملے ميں استعمال ہونے والے وائرس تھےـ ايراني حکام نے بتايا ہے  کہ ايراني ماہرين نے سائبر حملوں کو ناکام بنا ديا اور ساتھ ہي ان وائرسوں کے انتہائي اہم کوڈ بھي معلوم کر لئے جس سے امريکا اور اسرائيل کے سائبر حملوں کا جواب دينے کي ايران کي صلاحيت کا اندازہ کيا جا سکتا ہےـ امريکا کي جانب سے سائبر حملے کے بعد عالمي امن منجملہ امريکا کي قومي سلامتي بھي خطرے ميں پڑ گئي ہےـ

     ديگر ہتھياروں کي مانند جو سب سے پہلے بڑي طاقتوں نے تيار کئے اور پھر دوسروں کے پاس پہنچ گئے سائبر حملوں کي ٹکنالوجي بھي بڑي طاقتوں تک محدود نہيں رہے گي ـ بلکہ جو ملک جتنا زيادہ پيشرفتہ اور جتنا بڑا صنعتي ملک ہوگا اس کے سائبر حملے کا نشانہ بننے نقصان اٹھانے کے امکانات بھي اتنے ہي زيادہ ہيں ـ بنابريں اس بات کا قوي امکان ہے کہ امريکيوں نے  ايراني قوم  کو اس کے مسلمہ ايٹمي حقوق سے محروم کرنے کے لئے جو  سائبروار شروع کي ہے  اس ميں وہ کبھي نہ کبھي خود بھي گرفتار ہوں گےـ

    امريکي انٹيليجنس اور انڈسٹري کا ڈھانچہ کچھ اس قسم کا ہے کہ اس ميں نقب زني کي گنجائش بہت ہے- حکومتيں ہي نہيں بلکہ نجي کمپنياں بھي امريکا کو سائبر حملے کا نشانہ بنا سکتي ہيں ـ امريکيوں کو يہ توقع ہے کہ دھونس اور دھمکي کي زبان استعمال کرکے وہ ديگر ممالک کے سائبر جنگ کے ميدان سے دور رہنے پر مجبور کر ديں گےـ مثال کے طور پر امريکي وزير جنگ ليون پينيٹا نے حال  ہي ميں کہا ہے کہ امريکا کے صنعتي ڈھانچے کے خلاف کسي بھي سائبر حملے کو اعلان جنگ سمجھا جائے گاـ تاہم امريکا کے ناقدين کا کہنا ہے کہ جس طرح روايتي اور غير روايتي ہتھيار ديگر ملکوں تک پہنچ گئے ہيں اور وہ امريکا کے خلاف انہي ہتھياروں کو استعمال کر رہے ہيں- سائبر جنگ کي ٹکنالوجي بھي دوسرے ملکوں کو مل جائے گي اور وہ اسے امريکا کے خلاف استعمال بھي کريں گےـ

   ستر سال قبل ايٹمي سائنسدانوں نے امريکي حکومت کو  ايٹم بم نہ بنانے کي نصيحت کي تھي اور خبردار کيا تھا کہ ايٹمي عفريت ايک دفعہ بوتل  سے نکل گيا تو اسے دوبارہ اس ميں بند کرنا ممکن نہ ہوگا- تاہم امريکي حکومت نے اس نصيحت پر عمل کرنا درکنار اس سے جاپان پر ايٹمي حملہ بھي کر دياـ اس وقت سے اب  تک دسيوں ہزار ايٹم بم تيار کئے جا چکے ہيں اور کم از کم ايک دفعہ دنيا ايٹمي جنگ کے دہانے پر پہنچ چکي ہےـ خود امريکيوں کو بھي اس وقت تشويش ہے کہ ايٹمي ہتھيار کہيں دہشت گرد تنظيموں کے ہاتھ نہ لگ جائيں ـ ايسا لگتا ہے کہ امريکا ايک بار پھر وہي غلطي دہرا رہا ہے اور اس دفعہ سائبر ٹکنالوجي کا عفريت  بوتل  سے باہر نکل رہا ہے جس کي تخريبي صلاحيت ايٹمي ہھتيار سے بھي زيادہ ہےـ.......

/169