ابنا: بہت بڑي تعداد ميں عوام سنيچر کو صبح سے ہي قاہرہ ميں پوليس اکيڈمي کے باہر جہاں حسني مبارک کے بارے ميں فيصلے کا اعلان ہونا تھا، موجود تھے اور ڈکٹيٹر حسني مبارک ، سابق وزير داخلہ حبب العادلي اور ڈکٹيٹر کے مشيروں کو سزائے موت ديئے جانے کا مطالبہ کررہے تھے -
رپورٹ کے مطابق عدالت کا فيصلہ آنے کے بعد عوام نے اس فيصلے کو منسوخ کئے جانے اور ڈکٹيٹر اور اس کے ساتھيوں کو سزائے موت ديئے جانے کا مطالبہ کيا - رپورٹ کے مطابق مظاہرين کي ايک تعداد عدالت کے اندر بھي پہنچ گئي -
عدالت کے اندر اور باہر دونوں جگہ مشتعل مظاہرين اور سيکورٹي اہلکاروں کے درميان جھڑپيں شروع ہوگئيں جو آخري اطلاع ملنے تک جاري تھيں- رپورٹ کے مطابق اسکندريہ اور ديگر مصري شہروں ميں بھي عوام نے عدالت کے فيصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل کے مظاہرے شروع کرديئے ہيں-
معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک پر مقدمہ چلانے والي عدالت کے سربراہ نے حسني مبارک اور اس کے وزير داخلہ حبيب العادلي کو عمر قيد کي سزا سنائي اور ڈکٹيٹر کے مشيروں ، احمد محمد رمزي عبدالرشيد، عدلي مصطفي عبدالرحمان فائد، حسن محمد عبدالرحمان يوسف، اسماعيل محمد عبدالجواد ، اسامہ يوسف المراسي اور عمر عبدالعزيز عفيفي کو بري کرديا-
عدالت نے اسي طرح ڈکٹيٹر حسني مبارک کے بيٹوں علامبارک اور جمال مبارک کو مظاہرين کے قتل عام ميں شريک ہونے کے الزام سے بري کرديا اور مالي بدعنواني کے الزام کے تحت کيس کو اقتصادي عدالت ميں بھيجنے کا فيصلہ کيا ہے. .......
/169