1 جون 2012 - 19:30

بحرين ميں عوام کے انقلابي مظاہروں ميں شدت اور وسعت آگئي ہے -

ابنا: بحرين کے عوام نے ايک بار پھر مختلف شہروں اور قريوں ميں مظاہرے کرکے سياسي قيديوں سے يک جہتي کا اعلان اور منتخب جمہوري حکومت کے قيام کا مطالبہ کيا-  مظاہرين نے اسي طرح ملک ميں ہنگامي حالت کا قانون ختم کئے جانے اور چھے سياسي کارکنوں کے  خلاف نمائشي عدالت کے فيصلے کي منسوخي کا مطالبہ بھي کيا -

  آل خليفہ حکومت کي ايک نمائشي عدالت نے گزشتہ دنوں چھے سياسي کارکنوں کو سياسي نظام کے خلاف اقدام کے الزام ميں پندرہ پندرہ سال قيد کي سزا سنائي ہے - اس سے پہلے بھي بحرين کي نمائشي عدالتيں متعدد سياسي کارکنوں کو سزائيں سنا چکي ہيں -

  بحرين ميں عوام کے انقلابي مظاہروں کا سلسلہ چودہ فروري دو ہزار گيارہ سے جاري ہے - عوام کے مظاہرے ملک کے سياسي نظام ميں اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ شروع ہوئے تھے مگر آل خليفہ حکومت نے عوام کے مطالبات پر توجہ دينے کے بجائے ان کي سرکوبي شروع کي اور اس سلسلے ميں اس کي مدد کے لئے  علاقے کے مختلف ملکوں خاص طور پر سعودي عرب نے اپنے فوجي بھيج ديئے جن کے وحشيانہ حملوں ميں ايک ہزار سے زيادہ بحريني شہيد اور  زخمي ہوگئے اور سيکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا -  جس کے  نتيجے ميں عوام کے اصلاحات کے مطالبے آمريت کے خاتمے کے مطالبے ميں تبديل ہوگئے -

اور اب بحريني عوام کي انقلابي تحريک ميں روز بروز وسعت آتي جارہي ہے - کوئي دن ايسا نہيں جاتا جب عوام مظاہرے نہ کرتے ہوں - بحرين کے عوام جن ميں شيعہ اور سني دونوں شامل ہيں، اپنے انقلاب کو کاميابي سے ہمکنار کرنے اور آمريت ختم کرکے جمہوريت کے قيام پر مصمم ہيں -.......

/169