1 جون 2012 - 19:30

عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی کی غیرحاضری میں اس کے خلاف مقدمے کی تیسری سماعت منعقد ہوئی جس میں اس مقدمے کے جج نے عراق کے صدر جلال طالبانی کو گواہ کی حیثیت سے عدالت میں طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

ابنا: طارق الہاشمی کے وکلاء نے جمعرات کے روز مقدمے کی تیسری سماعت میں کیس کے جج سے درخواست کی کہ وہ صدر جلال طالبانی اور ان کے دو نائبین کو گواہ کی حیثیت سے عدالت میں طلب کریں لیکن فاضل جج اس بنا پر کہ اس کیس کی تحقیقات میں ان افراد کے بارے میں کسی بھی قسم کی بات نہیں کی گئی ہے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

طارق الہاشمی کے وکلاء نے یہ درخواست ایک ایسے وقت میں کی ہے کہ جب عراق کے صدر جلال طالبانی کے دفتر نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اسے مسلمان علماء کی عالمی کونسل کے صدر شیخ یوسف قرضاوی کا ایک خط موصول ہوا ہے جس میں صدر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ طارق الہاشمی کے مقدمے میں مداخلت کر کے اس کیس میں زیادہ غوروخوض کا باعث بنیں۔ عراق کی سیاسی جماعتوں نے شیخ یوسف قرضاوی کے اس خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں اس کیس میں مداخلت کرنے کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کیس میں قرضاوی کی مداخلت اس کے مزید پیچیدہ ہونے کا باعث بنے گي۔

طارق الہاشمی کا کیس ایک عدالتی کیس ہے اس کا سیاست سے کوئي تعلق نہیں ہے اور عراق کے آئین کے مطابق اس کو اپنے قانونی مراحل طے کرنے چاہییں۔ ٹھوس ثبوتوں کے مطابق اس وقت ترکی میں موجود عراق کا مفرور نائب صدر طارق الہاشمی عراق میں دہشت گردی کے کئی واقعات میں ملوث ہے۔ طارق الہاشمی کے محافظوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا اور ان ثبوتوں کی بنیاد پر عراق کی عدالت اور بین الاقوامی پولیس انٹر پول نے اس کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

عراقی حکام نے جس طرح بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ طارق الہاشمی بقول اس کے اگر بےگناہ ہے تو اسے عدالت میں حاضر ہونا چاہیے تھا اور اپنے اوپر لگائے الزامات کو رد کر کے اپنا دفاع کرنا چاہیے تھا۔ جیسا کہ عراق کے صدر جلال طالبانی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ اس ملک کا سیاسی بحران صرف عراقی جماعتوں اور گروہوں کے تعاون اور اتفاق رائے سے ہی حل ہو گا اور صرف اسی طریقے سے عراق کا انتظام چلانے کے لیے آئندہ کے پروگرام اور پالیسیاں مرتب کی جا سکتی ہیں اور طارق الہاشمی کے کیس کو عراق کے سیاسی عمل پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ ......../169