31 مئی 2012 - 19:30

مصر ميں صدارتي اليکشن کے تعلق سے حالات ميں کشيدگي اور عوام کي تشويش بڑھ گئي ہے اور مختلف تنظيموں اور عوامي حلقوں نے مطالبہ کيا ہے کہ معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک کے آخري وزير اعظم احمد شفيق کو، سابق حکومت کي باقيات کي سياسي سرگرميوں پر پابندي کے تحت نا اہل قرار ديا جائے -

ابنا: مصرکے حاليہ صدارتي انتخابات ميں  ڈکٹيٹر حسني مبارک کے دور کے آخري وزيراعظم احمد شفيق کے دوسرے مرحلے  ميں پہنچ جانے کے بعد پورے مصر ميں احتجاجي سلسلہ دوبارہ شروع ہوگيا ہے -

مصر کے صدارتي انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد جس ميں کسي بھي اميدوار کو پہلے ہي مرحلے ميں کاميابي نہيں ملي اور قانون کے مطابق اب دوسرے مرحلے ميں اليکشن کے نتائج کا فيصلہ ہوگا مصري عوام نے احمد شفيق کي دوسرے مرحلے ميں رسائي کو لے کر شديد احتجاج کيا ہے - مصري عوام کا کہنا ہے کہ وہ احمد شفيق کو کسي بھي قيمت پر دوبارہ اقتدار ميں نہيں آنے ديں گے -

مصري عوام کو اس بات کي تشويش لاحق ہے کہ سابق ڈکٹيٹر کي باقيات دوبارہ اقتدار ميں آسکتي ہيں اور اسي خدشے کے پيش نظروہ کسي بھي قيمت پر احمد شفيق کي دوبارہ اقتدار ميں واپسي کو برداشت کرنے کو تيار نہيں ہيں-

    مصر کي تقريبا سبھي سياسي انقلابي تنظيموں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ جمعے  کو ہونےوالے مظاہروں ميں بھرپور طريقے سے شرکت کريں- ان تنظيموں نے اعلان کيا ہے کہ ان مظاہروں کا مقصد انقلاب کا دفاع کرنا ہے -

انقلابي  تنظيموں نے کہا ہے کہ قاہرہ کے التحرير اسکوائر پر سب سے بڑا مظاہرہ کيا جائے گا جس کا مقصد احمد شفيق کو انتخابات ميں حصہ لينے سےروکنا ہے- مصر کے انقلابي نوجوانوں کے اتحاد نے بھي مصري عوام سے کہا ہے کہ وہ حکمراں فوجي کونسل اور وزير اعظم کمال الجنزوري کي کابينہ پر دباؤ ڈاليں کہ سابق حکومت سے وابستہ افراد کے انتخابات ميں حصہ لينے پر پابندي کے قانون کو نافذ کرتے ہوئے احمد شفيق کو انتخابي عمل سے باہر کرے اور ان کي جگہ پہلے دور کے انتخابات ميں تيسر نمبر پر آنےوالے حمدين صباحي کو دوسرے دور کے انتخابات کے لئے اميدوار قرار دے -

    مصر ميں دوسرے مرحلے کے لئے صدارتي انتخابات سولہ اور سترہ جون کو ہوں گے- مصري اليکشن کميشن کے مطابق اخوان المسلمين کے محمد مرسي اور معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک کے دور کے آخري وزير اعظم احمد شفيق دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لئے منتخب ہوئے ہيں - 

  مصري عوام کا کہنا ہے کہ ووٹوں کي گنتي ميں دھاندلي ہوئي ہے-   مبصرين کا کہنا ہے کہ احمدشفيق کا  انتخابات کے دوسرے دور ميں پہنچ جانا سابق ڈکٹيٹر حکومت کي باقيات، امريکا اور علاقے ميں حسني مبارک کي حامي حکومتوں کے لئے اس قدر اہم تھا کہ انہوں نے اس کے لئے احمدشفيق کے حق ميں بے پناہ دولت لٹادي ہے، ليکن حقيقت يہ ہے کہ احمد شفيق کے دوسرے مرحلے ميں پہنچنے کي خبر عام ہوتے ہي پورے مصر ميں غم وغصے کي لہر دوڑ گئي ہے اور ملک ميں ايک بار پھر شديد بحران پيدا ہوگيا ہے-

اس وقت مصر کے اندروني حالات انقلاب کے دور والے حالات جيسے ہيں اور مصر کے عوام اور مختلف تنظيميں حکمراں فوجي کونسل اور حسني مبارک کي باقيات کي جانب سے خطر ے کا احساس کررہي ہيں اسي لئے انہوں نے پورے ملک ميں احتجاجي مظاہروں کا اعلان کرديا ہے-

.......

/169