ابنا: واضح رہے کہ کیمرون منٹر مستعفی ہونے کے بعد پاکستان سے واپس جانے کی تیاری کررہے ہیں ۔ سنہ 2004 سے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر جاری امریکی ڈرون حملوں میں ابتک تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ اگرچہ پاکستان میں امریکی سفیر نے ان حملوں پر اپنی مخالفت کا اظہار بہت زیادہ تاخیر سے کیا جو شاید اس بناء پر بھی ہے کہ وہ اب پاکستان سے واپس جانے والے ہیں تاہم یہ مخالفت ایسی حقیقت کی غمّاز ہے کہ جسے واشنگٹن، نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہے ۔
امریکی فوجیوں کے ہاتھوں پاکستان کے عام شہریوں کا قتل عام اور پاکستان کی آزادی و قومی حاکمیت کی خلاف ورزی ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر پاکستان کی حکومت اور عوام دونوں نے ہی شدید احتجاج کیا ہے مگر امریکہ اس احتجاج کی کوئی پرواہ کئے بغیر پاکستان کے قبائی علاقوں پر اپنے ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ تازہ ترین ڈرون حملے میں آٹھہ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں ۔
اس سلسلے میں قابل غور نکتہ وہ رپورٹیں ہیں کہ جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملے امریکی صدر بارک اوباما کی براہ راست ہدایات پر انجام پارہے ہیں ۔ اخبار نیویارک ٹائمزکے مطابق اگرچہ ان اقدامات کا حکم بہت زیادہ خفیہ رکھا جاتا ہے تاہم وہائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان حملوں کا حکم خود امریکی صدر بارک اوباما براہ راست جاری کرتے ہیں حالانکہ ان حملوں پر امریکہ میں بھی مخالفین نے کڑی تنقید کی ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے سوالات بھی کھڑے کردئے ہیں ۔
گذشتہ فروری کے مہینے میں تحقیقی نامہ نگاری کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں میں سینکڑوں عام شہری مارے گئے ہیں اور امریکی سی آئی اے، زخمیوں کی مدد کرنے والے شہریوں پر بھی بمباری کرتی ہے ۔ اس تحقیق کے مطابق امریکی ڈرون طیاروں نے اسی طرح سوگ کے مراسم میں شریک عزاداروں پر بھی حملے کئے ہیں اس کے باوجود وہائٹ ہاؤس ان حملوں کا دفاع کرتا ہے ۔
ماہرین کے بقول ڈرون طیارے امریکہ کی نئی فوجی حکمت عملی میں ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جارہے ہیں اور امریکہ و برطانیہ کے فوجی، نیومیکسیکو میں ان طیاروں کو اڑانے کے طریقے کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس رو سے پاکستان کے قبائی علاقے امریکہ اور نیٹو کے مختلف قسم کے ڈرون طیاروں کی آزمائش کے میدان میں تبدیل ہوگئے ہیں اور یہ اس بات کے مترادف ہے کہ پاکستانی عوام کو امریکہ اور نیٹو کے ڈرون طیاروں سے متعلق پروگرام کی توسیع و ترقی کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے مشن کے اختتام پر کیمرون منٹر جیسی شخصیت کا ضمیر بظاہر بیدار ہوگیا اور انھوں نے انسان دوستانہ اصطلاح کے تناظر میں پاکستان کے قبائلی علاقوں پر جاری امریکی ڈرون حملوں اور ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے عام شہریوں کے قتل عام پر تنقید کی ہے ۔۔....... /169