29 مئی 2012 - 19:30

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے محمد علی خطیبی نے اس تنظیم کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ تنظیم کے فیصلوں کا احترام کریں اور اس کی پالیسیوں کے مطابق عمل کریں۔

ابنا: دو ہفتوں کے بعد ویانا میں اوپیک کے رکن ممالک کے وزراۓ پیٹرولیم کا ایک سو اکسٹھواں اجلاس ہوگا جس میں تیل کی منڈی کی صورتحال اور اس بات کا جائزہ لیا جاۓ گا کہ تیل کی عالمی منڈیوں کو اس تنظیم کے تیل کی کس قدر ضرورت ہے۔ اوپیک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافے یا کمی سے متعلق فیصلے کا انحصار تیل کی عالمی منڈیوں کی ضروریات پر ہے۔ اس سلسلے میں زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ اوپیک کے رکن ممالک کے وزراۓ پیٹرولیم منڈی میں توازن کی برقراری کے سلسلے میں تعاون کریں اور تیل پیدا کرنے والے اور تیل کے صارف ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھیں۔

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے محمد علی خطیبی نے عالمی اقتصاد کی پیشرفت سے متعلق پاۓ جانے والے شکوک و شبہات اور تیل کی طلب کے ا‌ضافے سے متعلق اس کے اثرات کے پیش نظر اوپیک کے رکن ممالک خاص کر سعودی عرب کی جانب سے بے تحاشا خام تیل نکالے جانے کو عالمی منڈی کے عدم استحکام کا سبب قرار دیا۔

اوپیک کے بارہ رکن ممالک اس وقت روزانہ تقریبا تیس ملین بیرل خام تیل نکالتے ہیں جو کہ دنیا میں نکالے جانے والے کل خام تیل کے ایک تہائي سے زیادہ ہے جس سے اس تنظیم کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اوپیک کا ایک بانی رکن ہے اور اس نے اس تنظیم میں ہمیشہ موثر سیاسی کردار ادا کیا ہے۔ وہ دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والا پانچواں بڑا ملک جبکہ گیس کے ذخائر رکھنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور مجموعی طور پر دنیا کی توانائی کے تقریبا دس فیصد ذخائر ایران میں پاۓ جاتے ہیں۔

ایران گزشتہ پانچ عشروں کے دوران روزانہ چار سے چھ ملین بیرل تیل نکالتا رہا ہے ان تمام امور کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ تیل کی منڈی ، تیل کی قیمتوں اور اوپیک کی پالیسیوں کے سلسلے میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تیل کے بائیکاٹ کا توانائی کی منڈیوں پر منفی اثر پڑے گا اور بھی ان حالات میں کہ جب یورپی ممالک اور ایشیا کے نۓ ابھرتے ہوۓ ممالک توانائي کی بڑھتی ہوئي ضروریات کے پیش نظر اوپیک سے تیل کی پیداوار زیادہ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

بہرحال ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپیک کے رکن ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار سے متعلق اس تنظیم کے فیصلوں کو نظر انداز کۓ جانے کی صورت میں طلب و رسد کا توازن بگڑ جاۓ گا اور تیل کی قیمت اتار چڑھاؤ کا شکار ہوجاۓ گی۔ موجودہ صورتحال میں تیل کی پیداوار میں ہر طرح کا اضافہ اوپیک کے رکن ممالک کی باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ہونا چاہۓ۔ اوپیک کے آئندہ اجلا س کے پیش نظر اس تنظیم میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے کے بیانات سے اس نظریۓ کی تصدیق ہوتی ہے کہ اوپیک کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کے استحکام کے علاوہ اس تنظیم کے رکن ممالک کے باہمی اتحاد کی تقویت پر مبنی ہے اور گزشتہ پچاس برسوں کے دوران تیل کی منڈی اور اس کی قیمت میں توازن برقرار رکھنے اور عالمی منڈیوں میں رکاوٹیں دور کرنےکے سلسلے میں اس اتحاد نے گہرے اثرات مرتب کۓ۔ .......

/169