27 مئی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری علی باقری نے کہا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت مقابل فریق کے عملی اقدامات پر موقوف ہے۔ علی باقری نے اسی طرح ایران کے ٹی وی چینل دو سے بات چیت میں حالیہ برسوں کے دوران ایران کے ساتھ گروپ پانچ جمع کے مذاکرات کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے پیشگی شرطوں اور مقابل فریقوں کے دباؤ کو مذاکرات میں اتفاق رائے کے حصول کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔

ابنا: انہوں نے استنبول مذاکرات میں گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے این پی ٹی معاہدے کے مطابق ایران کے ایٹمی حقوق کے اعتراف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس بات کو قدم بہ قدم عینی شکل میں ظاہر ہونا چاہیے اور مقابل فریق اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو ہم بھی سنجیدہ طریقے سے میدان عمل میں آئیں گے لیکن اکر دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف یہ کہ اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی قدرت و طاقت مزید کھل کر سامنے آئے گی۔اسلامی جمہوریہ ایران ان ممالک میں سے ہے کہ جنہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر سب سے پہلے دستخط کیے اور وہ صرف اس معاہدے کے تناظر میں گروپ پانچ جمع ایک ساتھ مذاکرات میں عمل کرے گا۔ لیکن بعض سیاسی حلقے اور ذرائع ابلاغ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کو مشکوک ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کرنے والے ان ممالک نے صیہونی حکومت کو ایٹمی ہتھیار فراہم کر کے اس معاہدے کی سب سے پہلے خلاف ورزی کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ کی تازہ رپورٹ بھی مجموعی طور پر ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے اور ان سرگرمیوں پر آئی اے ای اے کی نگرانی کا ثبوت ہے۔ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکراتی عمل میں کلی طور پر دو واضح موضوع موجود ہیں۔ پہلا ایران اور ایجنسی کے درمیان فنی اور تکنیکی معاملات ہیں کہ جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور دوسرا استنبول اور بغداد مذاکرات کے عمل کی تکمیل ہے کہ جو تقریبا تین ہفتے بعد ماسکو میں منعقد ہوں گے۔اس سلسلے میں دونوں فریقوں کی جانب سے پیش کیے گئے پیکج کا تفصیل سے جائزہ لیا گيا ہے تاکہ مشترکہ نقاط پر کام کو آگے بڑھایا جائے۔اس نقطۂ نظر سے مذاکرات کی کامیابی کا بہت سے عوامل پر دارومدار ہے۔ ان میں سے اہم ترین یہ ہے کہ ایٹمی معاملے میں غیرمنطقی مطالبات کا سلسلہ بند کیا جائے۔ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر فریدون عباسی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ایران ایٹمی ایندھن کی تیاری میں خودکفیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی فیول سائیکل کی ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی منزل پر پہنچ چکا ہے کہ جو این پی ٹی معاہدے کے ساتھ منافات نہیں رکھتی ہے۔ اس بنا پر اس کی مخالفت کا مطلب ایران کے ایٹمی حقوق نظرانداز کرنے کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ اگر اس بات کو مذاکرات پر بدستور مسلط کیا گيا تو یہ ان کی پیشرفت میں رکاوٹ بنے گا۔ جبکہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کی نیک نیتی اور مثبت نظر کا ہونا ضروری ہے۔واضح سی بات ہے کہ یورینیم کی افزودگی کے سلسلے میں ایران کے ایٹمی حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں این پی ٹی کے دائرے میں انجام پا رہی ہیں اور یہ مکمل طور پر پرامن ہیں اور ایران این پی ٹی معاہدے میں دیۓ گئے اپنے حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہو گا۔....... /169