اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، شام کے خلاف وہابی صہیونی سازش جاری ہے اورامریکہ، اسرائیل، فرانس، آل سعود اور قطر کے حکمران خاندان "آل الثانی" کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر انسانیت سوز دہشت گردانہ کاروائی میں 114 افراد کو شہید کردیا ہے۔ــ سلفیوں کے ہاتھوں 32 بچوں سمیت 114 شامی باشندے شہیدسلفی دہشت گردوں نے شام کی حکومت کو بدنام کرنے کے لئے ایسے علاقے میں عورتوں اور بچوں سمیت 114 افراد کوبے دردی سے قتل کیا جہاں اقوام متحدہ کے ساتھ شام کے دوطرفہ مفاہمت نامے کی بنیاد پر شامی فورسز موجود نہيں ہیں۔ حمص صوبے کے شہر "سہل الحولہ" کے عوام نے کہا: رات کو سلفی اور وہابی دہشت گرد علاقے میں ظاہر ہونا شروع ہوئے اور انھوں نے کئی نوجوانوں کو ہتھیاروں کے زور سے اپنے ساتھ ملالیا اور ان سے کہا کہ وہ شامی فوجیوں کے خلاف کاروائی کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس علاقے میں ایک بھی شامی فوجی موجود نہيں تھا چنانچہ انھوں نے مختلف گلیوں محلوں میں حملے کرکے 114 افراد کو شہید کردیا جن میں عورتیں اور بچے بھے شام تھے۔ اس قتل عام کے دوران کئی خاندانوں کے تمام افراد قتل ہوئے اور العالم سے گفتگو کرتے ہوئے ایک باپردہ خاتون نے کہا کہ سلفی دہشت گردوں نے ان کے خاندان کے آٹھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق شہداء میں 32 بچے اور متعدد خواتین شامل ہیں اور عینی گواہوں نے کہا کہ سلفی دہشت گردوں نے ان افراد کو قتل کرنے کے بعد کلہاڑیاں اٹھا کر علویوں اور شعیان آل محمد (ص) کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اکثر شہداء کے سر تن سے جدا کردیئے۔
ادھر سرکاری خبررساں ایجنسی نے اعلان کیا کہ دہشت گردوں نے سہل الحولہ میں شامی باشندوں کے گھروں کو بھی نذر آتش کیا ہے۔ اس ایجنسی نے بتایا کہ سلفیوں نے سہل الحولہ کے سرکاری اسپتال کو بھی نذر آتش کیا ہے۔
دیکھئے:
شام: سہل الحولہ میں دہشت گردوں نے 114 افراد کو قتل کردیا ہے(باتصویر+18)
ــ شام کے سلفی دہشت گردوں کے قطری حامی کے نام کا انکشافایک فرانسیسی روزنامے نے قطر کے اس سرمایہ دار کے نام کا انکشاف کیا ہے جو شام میں مسلح دہشت گرد ٹولوں کو مالی اور فوجی امداد فراہم کررہا ہے اور اس امداد کو "انسانی امداد" کا نام دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرانسیسی روزنامے لو فیگارو (Le Figaro) نے اپنی رپورٹ کے ضمن میں لبنان کے شمالی شہر "طرابلس" کے راستے شام میں القاعدہ اور سلفی دہشت گرد ٹولوں کے لئے افرادی اور مالی و فوجی امداد کی رسد کے حوالے سے اہم انکشافات کئے ہیں۔اس روزنامے نے انکشاف کیا کہ شام میں حکومت کے خلاف برسر پیکار مسلح دہشت گرد گروپوں کے پانچ اراکین فرانسیسی باشندے ہیں جو فرانس سے بیروت آئے اور وہاں سے شمالی شہر طرابلس چلے گئے لیکن لبنان کی ملٹری انٹیلی جنس نے ان کا سراغ لگایا اور انہیں گرفتار کرکے فرانسیسی سفارتخانے کے حوالے کیا اور فرانسیسی سفارتخانے نے انہیں فرانس لوٹا دیا۔ فرانسیسی روزنامے نے کہا: حال ہی میں شامی فوج نے ان میں سے متعدد مسلح دہشت گردوں کو ہلہک کردیا اور شامی فوج نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والے بیرونی دہشت گردوں میں تین تیونس، اردن اور مصر کے باشندے تھے جبکہ تین دوسرے فرانس، آسٹریا اور برطانیہ کے باشندے تھے جو باباعمرو نامی شہر میں سرکاری کاروائی کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔ لو فیگارو نے لکھا کہ شامی حکومت کے خلاف برسرپیکار گروپوں میں ایک گروپ کا تعلق لیبیا سے ہے جس کی مالی اور فوجی حمایت قطر کی حکومت کررہی ہے اور قطر کے حمایت یافتہ لیبیائی دہشت گرد شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلح گروپوں میں سب سے بڑے گروپ کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ان افراد کو "لیبیائی رضاکاروں" کا نام دیا گیا ہے جن کے ساتھ بعض لبنانی، کویتی، سعودی اور "پاکستانی" دہشت گرد بھی حکومت شام کے خلاف لڑ رہے ہیں اور تھوڑی سی تعداد الجزائریوں کی ہے جو ترکی کے ایک سرحدی گاؤں میں تعینات ہیں۔فرانسیسی روزنامے نے لکھا ہے کہ بعض عراقی مسلح عناصر نے بھی شام میں داخل ہوکر حکومت کے خلاف لڑنے کی کوشش کی لیکن شامی قبائل نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں شام میں نہیں گھسنے دیا۔ لوفیگارو نے انکشاف کیا ہے کہ قطری سرمایہ دار "عبدالرحمن النعیمی" سمیت علاقے کے کئی عرب سرمایہ دار "انسانی امداد" کے بہانے طرابلس میں تعینات شام مخالف مسلح گروہوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ شام میں ایک دہشت گرد گروپ "حمد بن جبر آل ثانی گروپ" کے نام سے دہشت گردی کررہا ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ قطر ان گروپوں کی مدد کررہا ہے لیکن ایسے قطری شخص کا نام پہلی بار سامنے آرہا ہے جو کسی دہشت گرد گروپ کی براہ راست سرپرستی کرتا ہے اور دہشت گردوں کو اجرت دیتا ہے۔اس روزنامے نے طرابلس میں عین گواہوں کے حوالے سے لکھا: اگر شام میں کوئی شخص بم دھماکہ کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس کے اہل خانہ کو بہت بڑی رقم ادا کی جاتی ہے اور ہر سلفی فرد کو شام کی حکومت کے خلاف جنگ کے لئے ماہانہ 200 امریکی ڈالر ادا کئے جاتے ہیں۔
لوفیگارو نے اس امریکی تشویش کا بھی حوالہ دیا کہ لبنان کے شمالی شہر طرابلس سے لے عراق کے صوبے الانبار تک ایک دہشت گرد تکون کی تشکیل کا خدشہ موجود ہے گوکہ روزنامے نے یہ نہیں لکھا کہ اگر امریکہ کو ایسی کوئی تشویش ہے اور اگر یہ دہشت گرد امریکی مفاد کے خلاف کام کررہے ہیں تو پھر امریکیوں کی طرف سے ان دہشت گردوں کی ہمہ جہت حمایت کا کیا جواز ہے؟
ــ شام میں قتل عام کی کاروائیوں کا انتظام امریکہ کے پاس ہےایک شامی مبصر نے الزام لگایا ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی فریق، امریکہ کے زیر قیات شام میں ہونے والی ہلاکتوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق شامی تجزیہ نگار "بسام ابو عبداللہ" نے اتوار کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے زیر سرپرستی دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے والے مسلح گروپ شام کے مسئلے کا پرامن حل نہیں چاہتے بلکہ وہ ملک میں بحران کی کیفیت قائم رکھ کر شام میں بین الاقوامی مداخلت کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہتے ہيں۔ انھوں نے کہا: امریکی زیر سرپرستی مسلح گروپ منصوبہ بندی کے تحت ملک میں منظم دہشت گردی کررہے ہيں اور اس طرح وہ بین الاقوامی ناظرین کے مشن کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اور یہ وہی اقدام ہے جو اس سے پہلے عرب ناظرین کے مشن کو ناکام بنانے کے لئے انجام پایا۔ یادرہے کہ جب عرب ناظرین کا مشن کامیابی کے مراحل میں داخل ہوا اور معلوم ہوا کہ یہ مشن شامی حکومت کے مفاد میں آگے بڑھ رہا تو قطر اور سعودی عرب نے روڑے اٹکانا شروع کئے اور اپنے زیر سرپرستی دہشت گردوں کے ذریعے شام میں دہشت گردانہ کاروائیوں کو شدت بخشی جس کے نتیجے میں وہ مشن [جو امریکہ اور اسرائیل کے نقصان میں جارہا تھا] شام سے لوٹایا گیا۔ بسام ابو عبداللہ نے کہا کہ روس سے حال ہی میں بین الاقوامی برادری سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ "یا وہ کوفی عنان کے مشن کو کامیاب بنائیں اور اگر ایسا کرنے کے لئے تیار نہيں ہے تو حکومت شام کی طرف سے پیش کردہ پالیسیوں کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔انھوں نے کہا: مغربی رپورٹوں کے مطابق واشنگٹن واضح طور پر ترکی کے ذریعے شام کے اندر بحران کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے اور مسلح دہشت گرد گروپوں کی مدد و حمایت کررہا ہے اور اس کا منصوبہ ہے کہ شام میں اپنے لئے راستہ کھولنے کے لئے اسی طرح کا قتل عام کروادے جو 1990 کے عشرے میں بلقان کے ممالک میں ہوا۔ابوعبداللہ نے کہا: حالیہ قتل عام نے ثابت کیا کہ الحولہ کے علاقے میں عوام کو جس درندگی سے قتل کیا گیا ہے وہ روش تکفیری وہابیوں کی ہے اور اس کا شامی معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ قتل عام درحقیقت ایک منصوبہ بندی شدہ قتل عام تھا جو اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان کے دورہ شام کے صرف دو روز قبل انجام پایا جس کے بعد کوفی عنان کو سلامتی کونسل کے سامنے اپنے مشن کی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ انھوں نے کہا: دہشت گردی اور درندگی کی یہ کاروائیاں ایسے حال میں ہورہی ہیں کہ بعض ٹی وی چینلز بھی اس قتل عام کو حکومت شام سے نسبت دے رہے ہیں اور بعض مجہول الحال افراد کے انٹرویو کسی تحقیق کے بغیر نشر کئے جارہے ہيں اور من مانے تبصروں سے عرب عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے اور یوں حکومت شام کو ہر سمت سے غیرمنصفانہ یلغار کا سامنا ہے۔ ــ شام: حمص میں شامی عوام کا قتل عام، حکومت شام جرائم پیشہ قاتلوں کا قلع قمع کرےشام میں "تنظیم المہاجرین" کے سیاسی ونگ کے سربراہ نے کہا کہ صوبہ حمص کے شہری سہل الحولہ میں ہفتہ (26 مئی کو) ہونے والا قتل عام شام دشمن قوتوں کی شرمناک خبث بھری سازش ہے جو انھوں نے اپنے ایجنڈے میں شامل کی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شام میں مہاجرین کی تنظیم کے سیاسی ونگ کے سربراہ "ضرار جمو" نے کہا کہ یہ قتل عام ایسے حال میں انجام پایا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان شام کے دورے پر آرہے ہیں۔ انھوں نے کہا: شام کے دشمن ان حالات میں ٹارگٹ کلنگ کے مرحلے سے گذر کر قتل عام اور نسل کشی کے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا: ان درندوں اور ان انسانیت دشمن جرائم پیش قاتلوں کی بیخ کنی کرنی چاہئے اور حکومت شام کو ان لوگوں سے چھٹکارا پانے کے مرحلے کی جانب بڑھنا چاہئے کیونکہ سیاسی حوالے سے کسی قسم کا جواز موجود نہیں ہے سوائے اس کے کا ان کا قلع قمع کیا جائے۔انھوں نے ایک منظم سازش کی طرف اشارہ کیا اور الزام لگایا کہ بین الاقوامی برادری [مغرب اور عالمی تنظیمیں] ان خطرناک اور انسانیت دشمن قاتلوں کی حمایت کررہی ہے اور اقوام متحدہ کی طرف سے شام آنے والے ناظرین بھی صرف مقتولین کی تخمینہ لگانے کے کام میں مصروف ہيں اور گویا وہ جاننا چاہتے ہیں کہ قتل ہونے والے حکومت کے مخالفین اور حامیوں کی تعداد کتنی ہے!۔انھوں نے کہا: کوفی عنان کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے ضمانتوں کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ ان کے منصوبے کی تمام شقوں پر حکومت بھی عمل کرے اور مسلح گروپ بھی ان شقوں پر عمل کرے اور یہ منصوبہ یک طرفہ طور پر حکومت شام تک ہی محدود نہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا: کوفی عنان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ صرف حکومت شام اس کا خیر مقدم کررہی ہے اور حکومت نے بین الاقوامی نگرانوں کو بھی تمامتر سہولتیں فراہم کی ہیں لیکن بین الاقوامی برادری نے مسلح دہشت گردوں کے جرائم روکنے کے لئے کوئی اقدام نہيں کیا ہے اور انہیں دہشت گردی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ انھوں نے کہا: بین الاقوامی برادری حکومت شام کو عنان منصوبے پر عمل کروانے کے درپے ہے لیکن دوسری طرف سے دہشت گردوں کو عرب حکومتوں کی طرف سے امداد فراہم کی جارہی ہے اور ترکی اور لبنان میں شامی حک