26 مئی 2012 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رکن شورایٰ عالی اور امام جمعہ علامہ سید ہاشم موسوی نے اسلام ٹائمز کو دیئےگئے انٹریو میں کہا،کہ موجودہ حالات کے تناظرمیں جوقتل وغارت اوربدامنی ہورہی ہے ۔ یہ سب اسلام دشمن طاقتیں کررہے ہیں وہ اس طرح کی سازشیں اس لئے کررہےہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ کہ اسلام دین فطرت ہےاورروز بروزطاقتورہوتا جارہاہے ، اوردینا کے گوشہ گوشہ میں پہنچ چکا ہے۔ جوآنے والے وقتوں میں پوری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرے گی۔

ابنا: جبکہ یہ سب عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ ،اسرائیل ، برطانیہ ،یورپ اوران کے حواریوں کویہ ہضم  نہیں ہوتی تو اس لئے یہ شیطانی طاقتیں اس قسم  کی گھناؤنی سازشی مسلمانوں کو آپس میں دست بہ گریباں کرکے کمزور کرناچاہتاہے ۔ علامہ سید ہاشم موسوی کوئٹہ کےنواحی علاقے علمدار روڈ محلہ حیدری سے تعلق رکھتےہے ۔ آپ کاوالد بزگوار سیدمحمد شاہ (سیدمامئی )کے لقب سے مشہور تھا ۔انہوں نے علاقے کے لوگوں کو ابتدائی دینی تعلمات سے آشنا کیا۔ محلے اور ہزارہ قوم کے افراد آپ کے والد بزرگوار کے بڑےعقیدت مند تھے۔ ایک دینی مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے آپ کوبچپن ہی سے مذہب کی طرف لگاؤ زیادہ تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم علاقے کے پرائمری سکول سے حاصل کی اوربعد میں کوئٹہ کے مشہور ہائی سکول اسلامیہ ہائی سکول میں زیرتعلیم رہے۔ آپ جوانی کے ایام ہی میں ملت تشیع کی خدمت کے لئے اس وقت کے مذہبی تنظیم آئی ایس او سے وابستہ ہوئے ۔ اور اس وقت کے ملت جعفریہ کے عظیم قائد شہید علامہ سیدعارف حسین الحسینی کے شاگردی کا شرف آپ کو حاصل ہوا۔ آپ ابتدائی دینی تعلیم پاراچنار میں شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کے مدرسے سے حاصل کی ۔ جس بعد آپ قم المقدس میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے ۱۹۸۸ء میں مشرف ہوئے۔ اور وہاں تقریبا ً بائیس سال تک تعلیم حاصل کرتے رہے۔اس دوران آپ وقتاً فو قتاًکوئٹہ اور اطراف بلوچستان میں دینی تبلغ کے لئے تشریف لاتے رہے ۔ بلآخر آپ کوامام جمعہ علامہ یعقوب علی توسلی کے بیمار پڑ جانے کی وجہ سے مومینن کوئٹہ کے شدید اسرار پرامام جمعہ کے منصب پرفائز ہونا پڑا۔کوئٹہ میں چونکہ ۱۹۹۹ء سے شیعہ مومنین کے قتل کاسلسلہ جاری تھا ، اس وجہ سے آپ کی ذمہ داریاں آتےہی بہت زیادہ تھا۔آپ نے کوئٹہ کے مومنین اور ہزارہ قوم کو پاکستان کے دوسر ے ملت تشیع سے نزدیک کرکے ملت تشیع کو مستحکم کرنے کی خاطر مجلس وحدت مسلمین میں شامل ہوئے، مجلس وحدت مسلمین کے ابتدائی بنیاد گزاروں میں آپ کا بھی شمار ہوتاہے۔ آپ فی الحال مجلس وحدت مسلمین کے رکن شوریٰ عالیٰ میں سے ہے۔ اور خصوصاً ۲۰۱۰ء کےماہ مبارک رمضان کے جمعتہ الوداع کے موقع پر امام خمینی کے فرمان کے مطابق نکا لے گئے، یوم القدس کے ریلی میں خود کش حملے میں تقریباً ۷۰ مومنین کی شہادت کے بعد حالات کو یکسر حکومتی اور دوسر ے معاشر ے بااثر افراد نے سازش کے تحت آپ کے خلاف کردیا۔ جس کے بعد آپ کی زند گی کو شدید مشکلات میں ڈالا گیا ،جس کو آپ نے بڑی جواں مردی سے سامنا کیا۔ اور اب بھی جواں مردانہ مومنین کی خدمت ہی کو اپنا شعار بنارکھاہے ۔

اسلام ٹائمز :موجودہ حالات کے بارے آپ کی رائے کیاہے ؟علامہ سید ہاشم موسوی :موجودہ حالات کے تناظرمیں جوقتل وغارت اوربدامنی ہورہی ہے ۔ یہ سب اسلام دشمن طاقتیں کررہے ہیں وہ اس طرح کی سازشیں اس لئے کررہےہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ کہ اسلام دین فطرت ہےاورروز بروزطاقتورہوتا جارہاہے ، اوردینا کے گوشہ گوشہ میں پہنچ چکا ہے۔ جوآنے والے وقتوں میں پوری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرے گی۔جبکہ یہ سب عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ ،اسرائیل ، برطانیہ ،یورپ اوران کے حواریوں کویہ بات ہضم نہیں ہوتی تو اس لئے یہ شیطانی طاقتیں اس قسم کی گھناؤنی سازشی مسلمانوں کو آپس میں دست بہ گریباں کرکے کمزور کرناچاہتاہے ۔ اس سے یہ تاثر بھی دینا چاہتے ہیں کہ اسلا م کو دنیا کےسامنے تشدد پسند پیش کریں تاکہ لوگوں کو دین سے دور کرکے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کریں۔

اسلام ٹائمز: کوئٹہ کے مومنین خصوصاً ہزارہ مومنین کا جس طر ح سے قتل وغارت کیاجارہاہے ،اس مسلئے کاحل کیا ہے آپ کی نظرمیں؟علامہ سید ہاشم موسوی: البتہ یہ قتل وغارت کو سلسلہ مکمل طورپررک جائے ، تو یہ مشکل دیکھائی دیتاہے، کیونکہ اس کے درپردہ عالمی طاقتوں کاہاتھ ہیں۔ان عالمی طاقتوں کا جب تک سازشیں رہے گی اس سلسلےکو روکنا مشکل ہوگا۔ لیکن ان حالات میں مسلمانوں کو ہوشیاری برتنی ہوگی، اور اس سازشو ں کوبانپ کرآپس میں اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کی فضاکوبرقرار رکھ کراسلام دشمن سازشوں کوناکام بنایاجاسکتاہے۔ اوریہی ایک بہترین راہ حل ہیں۔

اسلام ٹائمز: علامہ صاحب مومنین ان حالات کا کس طرح مقابلہ کرسکتیں ہیں؟علامہ سید ہاشم موسوی :ان حالات میں اتحاد بین المسلمین ایک طریقہ ہے ۔ اس سے بڑھ کر اتحاد بین المومنین ہی بہترین طریقہ ان جیسے حالات سے مقابلہ کرنے کا۔ اس سلسلے میں جو کوئٹہ یکجہتی کونسل کی تشکیل پچھلےدنوں عمل میں آئی ہے۔یہ ایک خوش آئند اقدام ہے اوراسی مومنین کا حوصلہ بلند ہو ا۔ اسی اتحاد کے ذریعے ہم آپس میں مل بیٹھ کرمسلئےکا حل بات چیت کرکےنکال سکتے ہیں۔اوراسی طرح دہشت گردی کا مقابلہ بھی ہم اچھی طرح کرسکتےہیں۔

اسلام ٹائمز: دہشت گردی میں درپردہ امریکہ اور اس کے حواریوں کاہاتھ ہے۔ بلکہ اب دہشت گردی میں ہمارے ریاستی عناصر بھی ملوث پائے جارہے ہیں ۔ ان کےسد باب کے لئے کیااقدامات درکارہیں؟علامہ سید ہاشم موسوی : ایک جمہوری ریاست میں جمہوری طرز کا حکومت ہی ہونا چاہئیے۔اگر جمہوری حکومت مضبو ط ہوگی ۔ تو لا محالہ حکومت عوامی نمائند ے کی حثیت سے ملک کو چلائے گی ۔جس میں عوام کی بہتری ،بھلائی اوران کے فلاح وبہبود کے لئے حکومت اور ریاستی ادارے مصروف عمل ہونگیں۔ حقیقی جمہوری حکومت امن وامان کو ہرقیمت پرقائم کرے گا ۔کسی قسم کے عوام دشمن عناصر کو پنپے نہیں دےگا۔ عوام میں نفرتوں ،انتشار ،قتل وغارت کرنے والے دہشت گردوں کاقلہ قمہ کرےگا۔لیکن افسوس کے ساتھ پاکستان میں جمہوری حکومت کا برائےنام ہے ۔ پاکستان میں کچھ ایسی طاقتیں اپنےعروج پر ہے جوحقیقی جمہوریت پر بوجھ ہیں ۔جمہوریت کو کمزور کررہی ہیں ۔یہ جمہوریت مخالف طاقتیں پاکستانی اداروں پرمسلط ہیں۔ یقیناً ان میں ایسے افراد بھی ہے جومحب وطن عوام دوست ہیں ۔ لہٰذا ان کو چاہیے کہ جوبھی پاکستان اورپاکستان کے عوام کے نقصان میں کام کرتا ہو ان کو روکے اور پاکستان مخالف، پاکستانی عوام مخالف اقدامات نہ کرنے دیں۔ امریکی اور دیگر اسلام دشمن عوام دشمن افراد کو بے نقاب کرکے کیفرکردار تک پہنچائیں۔ایسےافراد جو ریمنڈ یو س جیسے خطرناک مجرم امریکی جاسوس، جس نے دن دھاڑے تین پاکستانیو ں کو قتل کیا تھااور پاکستانی دہشت گردوں سے اس کا روبط تھا، کو رہاکراتاہے۔یہ ایک مثال کے طورپر پیش کیاگیا،کہ کس حد تک شیطانی طاقتوں نے پاکستان میں اپنا جال بچھا رکھاہے۔لہٰذ ا پاکستان کی حکومت اوراداروں کے ساتھ پاکستانی عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے شیطانی طاقتوں کے جال میں نہ آئے۔ تاکہ پاکستان میں امن وامان قائم ہو۔

اسلام ٹائمز:پاکستان کے موجودہ حالات خصوصاً کوئٹہ کےحالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے اتحاد بین المسلمین کے سلسلے میں آپ کا کیا لائحہ عمل ہے ؟علامہ سید ہاشم موسوی :موجودہ حالات میں اتحاد اور بھائی چارے کی فضاکوبرقرار رکھنا از حد ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سطح پرکوشش انجام دے رہی ہیں، اس سلسلے میں ملک بھر میں علماء سے رابطے میں ہیں۔ میرا ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ ہم ان حالات کو اتحاد کے ذریعے کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اسی سلسلےمیں بلوچستان میں بھی ہمارا رابطہ علماء اہل سنت سے بہت مضبوط ہیں۔امام کےنام سےبلوچستان میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے وا لے علماء کا ایک پلیٹ فارم قائم ہے۔جس میں بڑے بڑے مذہبی سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔اس میں ہمارا ایک اچھا پروگرام ہے ،جس میں تمام مکاتب فکر علماء سب مل کر کوئٹہ کسی مشہور جگہ پر ایک بڑ ا جلسےکاانعقاد کرینگے ۔ جس کامقصد مسلمانوں کے درمیان اتحاداوربھائی چارے کی فضا کوبر قرارکرکے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔ اسی سلسلے میں مشترکہ وفد تشکیل دے کربلوچستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرینگےجولوگوں میں دشمن کے سازشوں کے حوالےاور اتحاد واتفاق کو مضبوط بنانے کے بارے میں آگاہی دیں گے۔مجلس وحدت مسلمین ہمیشہ اس سلسلےمیں پیش پیش رہا ہے۔مجلس وحدت مسلمین اس طر ح کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے گا۔ ہماری ہی جانب سے پچھلے دنوں ہزاروں کی تعدادمیں پمفلٹ تقسیم کی تھی ۔جس میں آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا فتویٰ لکھا ہواتھا کہ اہل سنت کے مقدسات کی توہین حرام ہے اورخاص کرازواج رسول ﷺ کی شان میں بے حرمتی قطعاً حرام ہے۔اسی کے جواب میں جامعہ اظہر مصر کے سب سے بڑے عالم شیخ محمد الطیب کا فتویٰ بھی شامل ہے۔کہ شیعہ مسلمانوں پرحملہ کرنے اوران کے جان ومال کو نقصان پہنچانے کو حرام قرار دیا ہے۔اس پمفلٹ کو تما م سکولوں،کالجوں ، دیگر برادراقوام کے دفاتر کے لےپوسٹ کرچکے ہیں۔عوامی مقامات میں تقسیم کرچکے ہیں۔تاکہ مسلمانو ں میں جو شکوک و شبہات پید ا کیاگیاہے ،ان کو ختم کیاجاسکے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں عوام کو مختلف طر یقوں سے تقسیم درتقسیم کرنے کاعمل جاری ہیں ۔اتحادکے لئے سیاسی جماعتوں سے رابطے کےبارے میں آپ کا کیارائے ہے؟علامہ سید ہاشم موسوی: اس وقت کوئٹہ میں مومنین کے قتل و غارت کا جومسلہ ٔہے وہ مذہبی دیکھائی دیتاہے، لیکن پھربھی ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو۔ ہمارا مذہب سے ضرور تعلق ہے ۔ لہٰذ ا ہم اس سلسلےمیں تما م مذہبی وسیاسی قوم دوست جماعتوں پر مشتمل جلسہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: جیسا کے مذہبی اور قوم دوست سیاسی جماعتوں میں کھل کر ایک دوسرے کے خلاف بیانات آرہے ہیں ، اس بارے میں آپ کاکیا کہنا ہے؟علامہ سید ہاشم موسوی: سیاسی بیانات کی حدتک تو سیاسی ومذہبی جماعتوں ایک دوسرے پر تنقید سلسلہ جاری رہی گی۔ یہ تو جمہوری نظام کا حصہ بھی ہے اور صحیح ہے ۔لیکن اگر بات خدا نخواستہ حدسے بڑھ جائے تو اس سلسلے میں ہم علماء اس کو اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ معا ملے کوحل کریں۔ اہل سنت ، اہل تشیع جوامام کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں ۔کسی بھی گھمبر مسلئے پر ضرور اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حالا ت میں امن وامان نہ ہونے کی وجہ سے کوئٹہ کےعوام خوف زدہ ہے،آپ کا عوا م کے لئے کیاپیغام دیتے ہے؟علامہ سید ہاشم موسوی: خوف اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے ۔جیسا کہ اللہ تعا لیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے،کہ تمہیں خوف اور دیگر امتحانوں میں مبتلا کیا جائیگا۔قرآن مجید میں ایک اور جگہ ارشاد بادی تعالیٰ ہےکہ خد ا کے مقرب بندے نہ توخوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ غمگین ہوتاہے۔ان جیسے حالات کا اس آخری زمانے میں ہونا یقینی ہے ۔اس سلسلے ہمیں اپنی ایمان کو مستحکم کرنا چاہئیے۔ ایمان کو مضبوظ کرکے ہم اپنے معاشر ے کو برائیوں سے روک سکتے ہیں۔اور اس جیسے امتحانات میں کامیاب ہوسکتیں ہیں۔ مگر موجودہ بدامنی میں یہ تشویش پائی جاتی ہے، کہ اگر خدانخواستہ قتل وغارت کایہ سلسلہ