ابنا: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی افسوس ناک صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گيا ہےکہ آل سعود کے حکام مشرقی علاقوں میں عوام کے پرامن مظاہروں کو بڑی بےرحمی سے کچل رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشل کی رپورٹ میں آیا ہےکہ آل سعود کی انٹلجنس ایجنسیوں نے اصلاحات کے ہزاروں حامیوں کو گرفتار کرلیا ہے جو شیعہ مسلمان ہیں اور ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گيا ہےکہ گرفتار شدہ افراد انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔
امنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ سعودی عرب میں دسیوں ہزار افراد کو کال کوٹھریوں میں برسوں سے رکھا گيا ہے اور سعودی جیلوں میں جسمانی ایذائين پہنچانا شدید غیرانسانی اور توہین آمیزسزائيں اور غیر منصفانہ فیصلے ایک عام سی بات ہے۔
سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں آیا ہے کہ سعودی عرب کے معاشرے میں جس پر انتھا پسند وہابی فکر حاکم ہے خواتین اور لڑکیاں ہمیشہ تعصب اور تشدد کا شکار رہتی ہیں اور خواتین کے حقوق میں بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا ہے اور اعتراض کرنے والوں کوفورا گرفتار کرلیا جاتا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گيا ہےکہ بیرونی مزدوروں کو ہر طرح سے ستایا جاتا ہے لیکن کوئي عدالت ان کی فریاد نہیں سنتی ۔ اس رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ رواں برس سعودی عرب میں بیاسی افراد کو پھانسی دی گئي ہے۔........ /169