25 مئی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع کے درمیان بغداد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک دن سے بھی کم کے عرصے میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو نے ایران کے بارے میں نئی رپورٹ جاری کی ہے۔

ابنا: ایک ایسی رپورٹ کہ جس میں اگرچہ ایران کے ایٹمی پروگرام بارے مین بعض مثبت نکات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود اس ایجنسی کی گزشتہ چند برسوں کی رپورٹوں کی مانند اس میں بھی ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یوکیا امانو کی تازہ رپورٹ میں اس ایجنسی کے معائنہ کاروں کے حوالے سے کہا گيا ہے کہ یورینیم کی ستائیس فیصد افزودگی کی علامتیں مشاہدہ کی گئي ہیں۔ اگرچہ اس بات کی جانب اشارہ کیا گيا ہے کہ بیس فیصد سے زیادہ افزودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ضروری یورینیم افزودہ تیار کر رہا ہے۔ تقریبا فیصد یورینیم کو افزودہ کرنے سے ایران کا مقصد تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کے لیے ایندھن کی پلیٹیں تیار کرنا ہے کہ جو ایٹمی طبی تحقیقات اور کینسر کے مریضوں کے لیے ریڈیو میڈیسن کی تیاری کے میدان میں کام کر رہا ہے اور یہ عمل آئي اے ای اے کے معائنہ کاروں کی مکمل نگرانی میں انجام پا رہا ہے۔اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے ایجنسی کی اس رپورٹ کو مجموعی طور پر ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران کی کامیابیوں خصوصا عالمی ایجنسی کے ساتھ ایران کے مکمل تعاون کی دلیل اور ثبوت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بورڈ آف گورنرز کو پیش کی گئي یوکیا امانو کی گيارہ صفحات پر مشتمل رپورٹ اسلامی جمہوریہ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں پر آئی اے ای اے کی مکمل نگرانی کو ظاہر کرتی ہے۔یوکیا امانو کی اس تازہ رپورٹ کا چار جون کو ویانا میں بورڈ آف گورنرز کے آئندہ اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا۔ اس رپورٹ کا ایران اور گروپ پانچ جمع کے درمیان ہونے والے آئندہ مذاکرات پر اثر پڑے گا اور اعتماد سازی کے لیے اقدامات کا انجام دینا ضروری ہے۔اس نقطہ نظر سے ایٹمی ایجنسی کی تازہ رپورٹ ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ آئی اے ای اے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہے اور ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں کسی قسم کا انحراف نہیں پایا جاتا ہے۔اس بنا پر دونوں فریقوں کی جانب سے مذاکرات کو جاری رکھنے کو مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن کہا جا سکتا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کے متعدد عوامل ضروری ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایٹمی مسئلے میں غیر منطقی مطالبات کرنے سے گریز کیا جائے کہ جو برسوں سے یورینیم کی افزودگي کو روکنے پر ٹکے ہوئے ہیں۔ ان مطالبات کا جاری رہنا این پی ٹی معاہدے میں دیئے گئے ایران کے حقوق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے اور ان پر اصرار کرنا آگے کی طرف حرکت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔لہذا اس کے باوجود کہ اس بات سے اتفاق کیا گيا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع کے درمیان مذاکرات ایک ماہ سے بھی کم کے عرصے میں ماسکو میں دوبارہ ہوں گے، مبصرین کے خیال میں ایک قابل قبول حل تک پہنچنے کے لیے دونوں جانب سے اعتماد سازی کے قدم اٹھانا ضروری ہے۔یہ بات مسلم ہے کہ آئی اے ای اے کے ساتھ ایران کا تعاون اور پندرہ مہینے کے وقفے کے بعد مذاکرات کی بحالی کے لیے کیتھرین ایشٹن کی درخواست کو ایران کی جانب سے قبول کرنا دو طرفہ تعاون اور مذاکرات کے بارے میں ایران کی مثبت اور نیک نیتی کا اظہار ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ جب بین الاقوامی معاہدوں میں تسلیم شدہ ایران کے حقوق کا احترام کیا جائے گا۔ .......

/169