22 مئی 2012 - 19:30

ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جامع مذاکرات کا دوسرا دور آج عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہورہا ہے۔

ابنا: تقریبا ایک ماہ سے اور ترکی کے شہر استنبول میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ان مذاکرات کے نتائج کے سلسلے میں مختلف قیاس آرائياں جاری ہیں۔ جن میں سے بعض قیاس آرائیوں کا تعلق ایٹمی معاملے کے بارے میں فریقین کے اتفاق راۓ سے متعلق یورپ کے پروپیگنڈے سے ہے۔ بعض حلقوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اپنے جائز ایٹمی حقوق سے پسپائي اور اصولی موقف سے دستبرار ہونے کے زاویۂ نگاہ سے ممکنہ اتفاق راۓ کی سمت متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔

اگرچہ یورپ کا ایک مطالبہ ایران میں یورینیئم کی افزودگی اور اس کے تمام مراکز کے بند کیا جانا رہا ہے۔ لیکن اس غیر معقول اور این پی ٹی معاہدے کے منافی مطالبے کے سلسلے میں ایران کا جواب ہمیشہ سے واضح اور روشن رہا ہے۔ اس لۓ اس کی یاد دہانی کے لۓ استنبول یا بغداد مذاکرات کی کوئي ضرورت نہیں تھی۔ البتہ جامع تر موضوعات اور باہمی اعتماد سازی کے لۓ مذاکرات کا انعقاد ایک دوسری بات ہے اور استنبول مذاکرات میں اسی کے بارے میں اتفاق راۓ طے پایا تھا۔

ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو کے حالیہ دورۂ تہران ، فریقین کی جانب سے مذاکرات پر رضامندی کے اظہار اور یوکیا آمانو کی جانب سے ایران کے ساتھ مستقبل قریب میں ایک سمجھوتے پر دستخط کۓ جانے کی تاکید کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہۓ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایٹمی معاملے میں ایک عشرے پر محیط نشیب و فراز اور یورپ کی جانب سے بہانہ بازی کے بعد اب یورپ کے رویۓ میں تبدیلی کی علامتیں دکھائی دینے لگی ہیں۔ اور اب یورپ این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں ایران کے ایٹمی حقوق کو تسلیم کرنے لگا ہے۔ بنابریں یورینیئم کی افزدوگی ایران کا مسلمہ حق ہے۔

یہ ایسی بات ہے جس کا اعتراف تجزیہ نگاروں کو بھی ہے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران کی ایک ترقی و پیشرفت تہران کی تحقیقاتی ری ایکٹر کے لۓ ضروری ایندھن کی تیاری ہے۔ یورپ نے بے بنیاد بہانوں کے ساتھ ایران کو اس ایندھن کی فراہمی سے اجتناب کیا تھا۔ لیکن ایران کے ایٹمی سائنسدانوں نے اپنی محنتوں کے ساتھ اس ٹیکنالوجی پر یورپ کی اجارہ داری کا خاتمہ کردیا اور یہ ثابت کردیا کہ پرامن مقاصد کے لۓ ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائي کے ملت ایران کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

واضح سی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پابندیوں اور دباؤ کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور ایٹمی توانائی کے میدان میں ترقی و پیشرفت ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور عالمی برادری ایران کو ایک ایٹمی ملک کے طور پر پہچانتی ہے۔ بنابریں ایران کے نزدیک گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں ایران کے ایٹمی حقوق کو تسلیم اور ان کی پابندی کیا جانا ایک ایسا امر ہے جسے یورپ کی جانب سے ملت ایران کا اعتماد حاصل کرنے کے سلسلے میں انجام دیۓ جانے والے عملی اقدامات کے ذریعے پرکھا جاۓ گا اور یہ چيز بغداد مذاکرات کی کامیابی اور پیشرفت کے لۓ بھی ضروری ہے۔
.......

/169