اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الوسط نیوز ویب بیس نے لکھا ہے کہ خاتون نامہ نگار "نزیہہ سعید" کو آل خلیفہ سے وابستہ ایک مرد اور تین عورتوں نے مل کر غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور ٹارچر کے ذریعے انہيں عائد کردہ الزامات کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا ہے۔
نزیہہ سعید کے وکیل "حميد الملا" نے کہا: ہم نے اٹارنی جنرل سے درخواست کی ہے کہ وہ اس خاتون نامہ نگار پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کا سراغ لگائیں اور انہیں پہنچنے والے جسمانی اور نفسیاتی صدمے کی تشخیص کے لئے ایک ماہر ڈاکٹر کی خدمات حاصل کریں۔ انھوں نے کہا: ہم اٹارنی جنرل کے جواب کا انتظار کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ محترمہ نزیہہ سعید فرانس 24 نیوز چینل کی بحرینی نژاد نامہ نگار ہیں جنہوں نے انقلاب بحرین کے ابتدائی ایام میں آل خلیفہ اور آل سعود کی پرتشدد کاروائیوں کو کوریج دی اور ان ہی دنوں ان کو آل خلیفہ کے جلادوں نے اغوا کرکے بارہ گھنٹوں تک شدید ترین غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا۔
نزیہہ سعید کا ایک اہم کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے آل سعود اور آل خلیفہ کی پرتشدد کاروائیوں کی صحیح رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ خلیفی بادشاہ کی طرف سے قائم کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سامنے حاضر ہوکر بزرگ بحرینی شہری شہید عیسی عبدالحسن کی شہادت کی کیفیت بیان کی اور شہادت دی کہ انہيں خلیفی فورسز نے قریبی فاصلے سے جنگی گولی کا نشانہ بنایا حتی کہ شہید کا سر پھٹ گیا اور ان کا دماغ دیوار پر منتشر ہوگیا اور یہ کہ شہید کو سیکورٹی فورسز نے گولی ماری تھی۔.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: