18 مئی 2012 - 19:30

امام جمعہ کاکہنا ہے ، کہ تقو یٰ الہیٰ کا حصول ہر مسلمان کا فرض ہے۔

ابنا: بیت المقدس  مسلمانوں کا قبلہ اول اور مسلمانوں کے غیرت کا   مسلہ ہیں ٔ امام جمعہ جناب  حجتہ الاسلام علامہ سید ہاشم موسوی نے  نماز جمعہ کے عظیم  اجتماع سے خطاب کرتےہوئے کہا، کہ انسان   کے  لئے تقویٰ الہیٰ سب سے بڑا فریضہ ہے ، مسلمانو ں کو چاہئے  کہ وہ زند گی کے ہر موڈ پر  تقویٰ الہیٰ    کے حصول کے لئے کوشش جاری رکھیں۔ اسی تقویٰ الہیٰ کے لئے حد درجہ خطر ناک کسی پرتہمت لگانا ہے ،  لہٰذ ا تمام مسلمانوں کوچاہیے کہ وہ اس تہمت کی لعنت سے دور ی اختیار کر یں ۔

کیونکہ اس تہمت کا اثر بعض او قات صدیوں تک باقی رہتاہے۔ ممکن ہے کئی سو سال پہلے کسی پر تہمت لگائی گئی اور آج بھی لوگ اسی تہمت کو صحیح سمجھتاہے ۔اس طرح  تہمت لگانے والے  کا حساب تو خدا جانتاہے ، کہ جس کی وجہ سے کئی سو سال تک لوگ گمراہ رہے ۔تہمت لگانا انسان کے لئے زہر قاتل سے بھی بدتر ہے ۔

تہمت لگانےوالے خدا اور اسکے رسولﷺ کے نزدیک مبغوض ہے۔دوسرے خطبے میں علامہ سید ہاشم موسوی نے  فرمایا  ، کہ چودہ مئی اسرائیل  کے ناپاک وجود کو تسلیم کر نے کا دن ہے ، جو ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے تمام مہذب دنیا کے لئے۔ 

اسرائیل نہ صرف مسلمانوں کے لئے خطرے کا باعث ہے بلکہ تمام دنیا  کے مہذب  اقوام  کے لئے خطر ناک ہیں۔ جو پوری انسا نیت کا دشمن ہے جنکا یہ عقیدہ ہے ، کہ حیوانات کے ساتھ ساتھ دوپاؤں والے حیوانات (انسان) خالق کائنات نے ہماری یہودیوں  کے غلامی کے لئے پیدا کیاگیاہے ، لہٰذا یہ  صہیونی یہودی  تمام انسانوں کا استحصال کرنے کے نت نئے  طریقے بناتے ہیں اور معصوم اور بے گناہ انسانو ں کاخون چوس کر استحصالی  اقدامات کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں  دینا بھرمیں  اور خصوصاً اسلامی ممالک میں جتنے بھی فتنہ فساد اور خون ریزی  ، لسانی  تعصب ، فرقہ وارنہ تعصب  اور  نااتفاقی پائی جاتی ہے ، اس میں اسرائیلی صہیونی یہودی لابی  کا ہاتھ شامل  ہے ۔ 

اسرائیل نہ صرف مسلمان ممالک بلکہ تمام دنیا کے انسانو ں کے استحصال کاباعث ہیں۔ بیت المقدس کا احترام  فرامین الہیٰ اور احادیث سے ثابت ہیں ۔  جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ اور مسلما نو ں کے غیرت کا مسلہ ٔ ہیں۔ لہٰذا تما م مسلمانو ں پر یہ فر ض ہے کہ وہ اسرائیل  سے بیزاری کااظہار کرتے ہوئے صہیونی اسرائیل کے وجود کو ختم کرنے کے لیے آواز اٹھائیں تاکہ  عالمی طاقتوں کی طر ف سے مسلط کردہ  شیطانی ریاست سے چھٹکارہ حاصل کریں ۔

جس بنانے کا مقصد شیطانی طاقتوں کے ناپاک عزائم  خطے میں مسلمانوں کو کمزور کرکے ان کا استحصال کرناہے۔ جو پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے۔امام جمعہ علامہ سید ہاشم موسوی نے  امریکی ملعون  پادری  کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس ملعو ن پادر ی کے سرپرستی امریکی حکومت کررہاہے۔ جو مسلمانوں کی دل آزاری میں شطان کبیر کی حثیت رکھتاہے۔ امریکہ کا مسلمانوں سے دشمنی روز روشن کی طر ح عیاں ہیں۔ 

لیکن پھربھی ہمار ے حکمران اسی  ظالم سے دوستی  کر تے ہیں ۔ اپنے ہی ملکی وقار اور غیرت مفاد کو داؤ پر لگا  کر اس شیطا ن امریکہ کےآواز پر لبیک کہتے ہوئے  نیٹو سپلائی کو بحا ل کرنے  کے طور طر یقے ڈھونڈ میں  مصروف ہیں ۔ اپنے سرحدی  محافظو ں کے خون کا سودا  دنیا کے چند  روز ہ  زند گی   کے لئے کر رہاہے ۔

انشاء اللہ سلالہ چیک پوسٹ  کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ان ظالم مفاد پرست  حکمران سے  ضرور حساب لے گا۔  جبکہ حکومت کو معلوم ہیں کہ پاکستان کے گوشہ گوشہ میں دہشت گردی میں یہی امریکہ  کے آلہ کار سازشی عناصر ملوث  ہیں۔

لیکن پھر بھی مملکت پاکستان کی سلامتی عوام کی حفاظت امن وامان کی بحالی  کے لئے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہیں۔  یہا ں  تک کہ بعض حکومتی ادارے ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہے ہے۔ کیونکہ دہشت گردی کے خلاف کوئی ٹھوس اور عملی اقداما ت نہیں اٹھارہے ہیں۔  گزشتہ دنوں پاسپورٹ آفس کے سامنے دو ہزارہ مومنین نوجوانوں کو بےدردی سے شہید کردیا اور گزشتہ روز پولیس اہلکاروں پر مغربی بائی پاس میں  دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ 

ملک بھرمیں خصوصاً کوئٹہ میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ بلوچستان کے صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے میں اتنے لاپرواہ ہے کہ اپنے  اہلکاروں کے قاتل دہشت گردوں کے خلاف بھی کاروائی سے  گریز کر رہاہے۔

بہر حال حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے اور ہمار ا بھی یہی مطالبہ ہے  کہ کوئٹہ کوتباہی سے بچانے کے لئے مٹھی بھر دہشت گردوں کے خلاف فور اً سنجیدہ کاروائی عمل لا کر ان کو قرار واقعی سزادیں۔

.....

/169