15 مئی 2012 - 19:30

بوسنيا… بوسنيا ميں 1990کے عشرے کے دوران ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے جرم ميں ملوث سرب فوجي کمانڈر راتکو ميلادک کے خلاف جنگي جرائم کي عدالت ميں کارروائي شروع کردي گئي .

ابنا: ذرائع ابلاغ کے مطابق بوسنيا ميں 1995ء ميں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام ميں ملوث مذکورہ فوجي کمانڈر کے خلاف اقوام متحدہ کي جنگي جرائم سے متعلق عدالت ميں مقدمے کي کارروائي شروع ہوگئي ہے. 70 سالہ ميلادک پر1995ء ميں فرد جرم عائد کي گئي تھي اور اسے جرائم کے خلاف عدالت کا سامنا کرنا ہے .

راتکوميلادک پر الزام ہے کہ اس نے بوسنيا ميں 7ہزار500 مردوں اور لڑکوں کے قتل عام ميں اہم کردار ادا کيا تھا. 16 برس تک مفرور رہنے والے راتکو کو گذشتہ برس بلغراد کے نواح سے گرفتار کيا گيا. فوجي کمانڈر پر بوسنيا کے دارالحکومت سراجيووکا محاصرہ اور گولہ باري کرنے کا بھي الزام ہے جس ميں 10ہزار شہري ہلاک ہوگئے تھے .  .......

/169