13 مئی 2012 - 19:30

جاسوسي کے ليے اسرائيل اور ديگر ممالک کي فورسز پہلے ہي انتہائي چھوٹے آلات استعمال کررہي ہيں مگر يہ جاسوس تتلي سب سے جدا ہے.صرف بيس گرام وزني يہ تتلي اسرائيل سے ترکی تک کا طويل سفر بھي کرسکتي ہے.

ابنا: اہداف کي رنگين تصاوير رئيل ٹائم ميں کنٹرول روم بھيجنے کے علاوہ ضرورت پڑنے پر حملہ کرکے تباہي بھي پھيلا سکتي ہے.اسے ايک خصوصي ہيلمٹ کے ذريعے کنٹرول کيا جاتا ہے. جسے پہننے والا آپريٹر خود کو جاسوس تتلي کے کاک پِٹ ميں بيٹھا محسوس کرتا ہے.

ہر وہ چيز ديکھ سکتا ہے جو يہ ديکھ رہي ہو.پراجيکٹ کے ليے مطلوبہ فنڈز مل گئے تو جاسوس تتلي اسرائيل کے علاقے لْد ميں قائم ليبارٹري سے نکل کر اگلے دو سال ميں فورسز کے زيراستعمال آجائے گي.  .......

/169