ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق روسي پارليمنٹ ميں مدويديو کي وزات عظمي کے حق ميں دو سو ننانوے وووٹ پڑے جبکہ ان کي مخالفت ميں ايک سو چواليس اراکين پارليمنٹ نے ووٹ ديا- يونائيٹيڈ رشيا پارٹي اور لبرل ڈيموکرٹک پارٹي کے اراکين نے مدويديو کے حق ميں جبکہ کميونسٹ فيڈريشن اور سوشل ڈيموکرٹک پارٹي کے اراکين نے ان کے خلاف ووٹ ڈالا-
واضح رہے کہ دمتري مدويديو دو ہزار پانچ سے دو ہزار آٹھ تک روس کے نائب وزير اعظم اور دو ہزار آٹھ سے دو ہزار بارہ تک اس ملک کے صدر رہے ہيں-
نئے صدر ولاديمير پوتين نے، جنہوں نے پير کے روز صدارت کے عہدے کا حلف اٹھايا ہے، مدويديو کو نئے وزير اعظم کو طور پر روس کي پارليمنٹ ڈيوما ميں پيش کيا ہے- انہوں نے صدارتي انتخابات ميں فتح سے قبل بھي کہا تھا کہ جيتنے کي صورت ميں وہ مدويديو کو وزير اعظم بنائيں گے-
دمتري مدويديو نے پارليمنٹ کي جانب سے اعتماد کا ووٹ ملنے پر اراکين پارليمنٹ کا شکريہ ادا کيا اور کہا کہ انہيں يقين ہے کہ اگر ہم ايک دوسرے سے تعاون کريں گے تو ضرور کامياب رہيں گے-
انہوں نے وعدہ کيا کہ وہ سياسي مخالفين کے ساتھ مذاکرات کريں گے- انہوں نے کہا کہ وہ وزير اعظم کي حيثيت سے کہتے ہيں کہ تمام سياسي دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کے ليے تيار ہيں-
........
/169