8 مئی 2012 - 19:30

جماعت اسلامی پاکستان کے سابق سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا ایرانی جزیرے پر دعوی، مغربی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

اہل البیب (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کے سابق سربراہ قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں ارنا کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے خلیج فارس میں ایران کے تین جزیروں پر متحدہ عرب امارات کے دعوے نے ثابت کیا ہے کہ اس ملک میں کوئی مستقل اور خودمختار حکومت کا نام و نشان تک نہیں ہے اور یہ ملک مغربی ایجنڈے پر عملدرآمد کررہا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کل منگل کے روز (مورخہ 8 مئی 2012 کو) اسلامی جمہوریہ خبر ایجنسی ارنا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ خلیج فارس میں متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ریاستوں کی فوجی مشقوں میں بھی امریکہ اور بعض دیگر مغربی ممالک کا ہاتھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک اسلامی ممالک اور مسلمانان عالم کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے میں بنیادی کردار ادا کررہے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے رائے ظاہر کی: دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطی میں مغرب کی سرگرمیوں کا اصل مقصد اختلافات پھیلانا اور مسلم ممالک کے درمیان روابط کو زد پذیر کرنا، ہے۔انھوں نے صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے اندرونی ملک دوروں کے سلسلے میں، جزیرہ ابو موسی کے دورے پر متحدہ عرب امارات کے غیر منطقی اور نامعقول رد عمل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا: ابوظہبی حکومت کو یہ بات بخوبی یاد کرلینی چاہئے کہ ایران پر عراق کی بعث حکومتی کی ٹھونسی ہوئی جنگ بھی امریکی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا نتیجہ تھی، چنانچہ امارات کو کھوکھلی اور بے بنیاد دلیلوں کے سہارے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات مرتب کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے راہنما نے حکومت امارات کو تجویز دی کہ وہ امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کی حکومتوں کے احکام کو توجہ دینے اور ان کا ایجنڈا نافذ کرنے کی بجائے خطے کے ممالک، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران، کے ساتھ روابط اور تعاون کو فروغ دے۔انھوں نے اسلامی تعاون تنظیموں کی طرف سے اسلامی ممالک کے اندرونی اور سیاسی معاملات میں بیرونی مداخلت پر مناسب رد عمل نہ دکھانے کے رویئے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا: ان تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں اسلامی ممالک کےمسائل حل کرنے پر مرکوز کرلینی چاہئیں اور ان کو اپنی فعالیت میں اضآفہ کرنا چاہئے۔ انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران سے جزیرہ ابو موسی کے مسئلے اور امارات کے بےجا اعتراض پر مناسب رد عمل ظاہر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کو اس مسئلے کی خصوصی طور پر پیروی کرنی چاہئے کیونکہ اس مسئلے میں امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کی مداخلت کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110