ابنا: امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیراہتمام ہفتہء شہدا کے سلسلے کا مرکزی پروگرام بعنوان "شب شہدا" کا انعقاد جامع مسجد دربار حسینی ملیر میں کیا گیا، جس سے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا امین شہیدی، مولانا نقی ہاشمی اور آغا آفتاب حیدر جعفری نے خطاب کیا۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا امین شہیدی نے کہا کہ شہادت وہ چیز ہے کہ جس کے لئے خود آرزوئے کائنات مولیٰ علی ع آرزو مند تھے اور اس کے اشتیاق میں آنسو بہاتے تھے۔ اللہ کی راہ میں جانیں قربان کرنا ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے، ہمارا دشمن ہم سے خائف ہے، اس لئے وہ چھپ چھپ کر بزدلوں کی طرح حملے کر رہا ہے۔
اس موقع پر مولانا نقی ہاشمی نے کہا انقلاب اسلامی کے بعد اہل تشیع نے عالمی طور پر آگاہانہ شہادتیں دینا شروع کیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید باقر الصدر، شہید عباس موسوی، شہید مرتضیٰ مطہری، شہید مصطفی چمران، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی سمیت دیگر شہدا نے یہ عظیم رتبہ اس لئے پایا کہ یہ لوگ خلوت اور جلوت میں ایک ہی شخصیت رکھتے تھے، یہ ہماری طرح الگ الگ شخصیات نہیں رکھتے تھے کہ جو محفل میں مختلف ہوتے ہیں اور اکیلے میں ہمارا انداز مختلف ہوتا ہے۔
شب شہدا سے خطاب کرتے ہوئے آغا آفتاب حیدر جعفری نے کہا کہ کربلا میں بھی امام حسین ع اور یزید دونوں کے لشکروں کی طرف لاشے گر رہے تھے، لیکن فرق یہ تھا کہ یزید کی طرف جو مرتا تھا وہ فی النار ہوتا تھا اور لشکر حسین ع میں شہید ہونے والا ہر شخص جام حیات نوش کرتا تھا۔ آج بھی فرق یہی ہے کہ ہمارا ہر جوان جو انصاران کربلا کی طرح اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق بن جاتا ہے۔ "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے گئے ان کو مردہ گمان بھی نہیں کرنا، بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کی طرف سے رزق پا رہے ہیں۔"
پروگرام میں عوام کی کثیر تعداد کے علاوہ علمائے کرام نے بھی شرکت کی، جبکہ خانوادہ شہدا نے اس پروگرام میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر شہدا اور عالم اسلام کی عظیم شخصیات پر مشتمل تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ پروگرام میں امامیہ بلڈ ٹرانسفیوژن اینڈ میڈیکل سروسز کے زیراہتمام مومنین کی سہولت کے لئے ایک بلڈ ڈونیشن کیمپ بھی لگایا گیا تھا، جس میں مومنین نے دل کھول کر خون کے عطیات دئیے۔ پروگرام کے آخر میں انجمن حسینی عزادار تنظیم نے اپنے مخصوص انداز میں نوحہ خوانی اور سینہ زنی کی۔.......
/169