7 مئی 2012 - 19:30

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں واقع ایک گھر پر امریکہ کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں دس عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد حکومت پاکستان نے امریکہ سے شدید احتجاج کیا ہے۔

ابنا: پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی حکومت اپنے قبائلی علاقوں پر ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات امریکہ کے اعلی سفارتکار کو طلب کرکے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے فضائی حملوں پر سخت احتجاج کیا تھا۔

لیکن امریکہ ان تمام تر احتجاجات کو نظر انداز کرتے ہوۓ پاکستان کی خود مختاری اور قومی اقتدار اعلی کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ حتی امریکی وزیر جنگ لئون پانیٹا نے انتہائی گستاخي سے کام لیتے ہوۓ اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے مخالفت کۓ جانے کے باوجود امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر اپنے ڈورن حملے جاری رکھے گا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ نہ صرف پاکستانی عوام کی جان و مال کے لۓ کسی احترام کا قائل نہیں ہے بلکہ وہ ڈرون حملوں کے بند کۓ جانے پر مبنی پاکستان کی حکومت اور عوام کے مطالبے کو بھی کوئي اہمیت نہیں دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات ان حملوں کی وجہ سے ابھی تک کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ اور ان تعلقات کو معمول پر لانے کی امریکہ کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوئي ہیں۔ دریں اثناء پاکستانی حکومت کے مخالف رہنما قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملے بند کرانے کے سلسلے میں حکومت اور پارلیمنٹ کی ناکامی کی وجہ سے ان کی قانونی حیثیت کے آگے سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کل تقدس عدلیہ کے نام سے نکالی جانے والی ریلی میں تقریر کرتے ہوۓ کہاکہ امریکہ کے ڈرون حملوں کے بند کۓ جانے سے متعلق پارلیمنٹ کی قرار داد پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے اس کی قانونی حیثیت کے آگے سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں اتفاق را‎ۓ سے ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں ملک کے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں کے بند کۓ جانے کی ضرورت پر تاکید کی گئی تھی۔

اگرچہ پارلیمنٹ کے اراکین نے اپنے ملک سے افغانستان میں موجود نیٹو فوجیوں کے لۓ سامان کی سپلائی بحال کرنے کو قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں کے بند کۓ جانے سے مشروط نہیں کیا تھا لیکن ان کو یہ توقع تھی کہ امریکہ اس سپلائی کے عوض قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کے بند کۓ جانے پر مبنی پاکستانی عوام کے مطالبے کا احترام کرے گا۔ واضح رہے کہ ان حملوں میں اب تک ہزاروں عام شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔

اور اسلام آباد حکومت کا کہنا ہےکہ ان حملوں کی وجہ سے پاکستانی فوج اور سیکورٹی فورسز کے لۓ دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں کیونکہ امریکی فوج کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے دہشتگرد گروہوں کو امریکہ کے مقابلے کے بہانے دوسرے افراد کو اپنے ساتھ ملانے کا سنہری موقع مل جاتا ہے۔.....

/169