3 مئی 2012 - 19:30

عرب دنیا کے نمایاں قلمکار "عبدالباری العطوان" نے مصر اور سعودی عرب کے تعلقات میں موجودہ بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصری حکام کو جان لینا چاہئے کہ مصر کی حالت بدل چکی ہے اور ڈکٹیٹر حسنی مبارک کا دور قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق عرب دنیا کے مشہور قلم کا عبدالباری العطوان نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامے "القدس العربی" کے اداریئے میں "سعودی عرب کو انتباہ؛ مصر بدل چـکا ہے" کے تحت لکھا:  انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ریاض اور قاہرہ کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی کیفیت مصری وکیل اور انسانی حقوق کے شعبے کے فعال راہنما احمد الجیزاوی کو جدہ ائیرپورٹ ميں عبداللہ بن عبدالعزیز کی توہین کا الزام لگا کر  گرفتار کرنے اور اس کے بعد ان پر منشیات اسمگل کرنے کا الزام لگانے کی وجہ سے شدت اختیار کرگئی ہے۔انھوں نے مزيد لکھا: قاہرہ اور دوسرے شہروں میں آل سعود کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور دھرنوں کے بعد عبداللہ بن عبدالعزيز کی طرف سے عجلت میں مصر میں سعودی سفارتخانے کی بندش کے غیر متوقعہ اعلان کے بعد سے مصری حکام تعلقات کی بحالی کے لئے کوششیں کررہے ہيں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تناؤ آج ہی وجود میں نہيں آیا اور الجیزاوی کی گرفتاری برف کی اس پہاڑی کی چوٹی ہے جو مصر اور سعودی عرب کے تعلقات میں پہلے کھڑا کیا گیا تھا۔ انھوں نے لکھا: مصر میں عوام نے انقلاب کا آغاز کیا تو آل سعود نے اس کی بری طرح مخالفت کی اور اس کی مسلسل مخالفت کی، انقلاب کے خلاف مسلسل سازشیں کیں اور حسنی مبارک کے اقتدار کے تحفظ میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور ہر وسیلے سے استفادہ کیا جس کی وجہ سے مصر جدید اور آل سعود کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے مصر کے انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے امریکی صدر سے رابطہ کیا اور مصر میں فوری امریکی مداخلت اور جمہوری تبدیلیوں کا راستہ روکنے کی درخواست کی!۔عجب ہیں یہ سعودی خاندان کے حکمران بھی، ایک طرف سے اسلام کے ہیرو بنتے ہیں اور دوسری طرف سے مسلمانوں کی کامیابی سے نہ صرف پریشان ہوتے ہیں بلکہ انہيں ناکام بنانے کے لئے سرمایہ خرچ کرتے ہيں؛ دیکھئے:العطوان نے کہا: مصر میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تو 75 سے زائد نشستیں اسلام پسندوں نے جیٹ لیں اور یہ بات آل سعود کو اچھی نہيں لگی اور ان کی ناراضگی میں شدت آئی کیونکہ آل سعود کے حکمران اخوان المسلمین سے نفرت کرتے ہيں اور سعودی ولیعہد نائف بن عبدالعزيز نے اخوان المسلمین کو اس علاقے کے لئے ایک آفت اور آسیب قرار دیا ہے۔عبدالباری العطوان نے کہا: مصر تبدیل ہوگیا ہے اور عرب اقوام بھی بدل چکی ہیں اور وہ جو انقلاب مصر سے پہلے خاموش رہا کرتے تھے مزید خاموش نہيں رہیں گے۔.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی عمومی صورت حال؛العوامیہ میں شیعہ رہائشی علاقوں پر سعودی افواج کی فائرنگ