3 مئی 2012 - 19:30

مجلہ الاہرام کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے آل سعود کی طرف سے قاہرہ میں سعودی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی بندش پر مطلق العنان سعودی حکمرانوں کے خلاف وسیع انکشافات کرلئے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق "اسامہ الدلیل" نے انکشاف کیا کہ سعودی خاندان مصر میں انقلاب کے خلاف فعال بیرونی عناصر کو مالی کو مالی امداد کی فراہمی کے مقدمے میں اہم ترین ملزمان میں شامل ہے لیکن سعودی اٹارنی جنرل کے دفتر نے ابھی تک اس موضوع کو فاش نہیں کیا ہے۔انھوں نے کہا: اس کیس میں جو کچھ ذرائع ابلاغ کو بتایا گیا ہے یہ ہے کہ "امریکہ اور یورپ نے مصر میں سول سوسائٹی سے متعلق بعض اداروں کو مالی امداد فراہم کی ہے" لیکن سعودی عرب اور قطر نے مصر میں وہابی اور سلفی اور بعض اسلام پسند گروہوں کو جو مالی امداد دی ہے اس کے بارے میں ابھی تک کچھ بھی بتانا گوارا نہيں کیا گیا ہے۔الدلیل نے کہا: سعودی عرب اور قطر عرب ممالک میں جمہوری نظامات کا تختہ الٹنے  اور ان ممالک کو شیعہ اور سنی اور مسلم اور عیسائی جیسے گروپوں میں تقسیم کرنے کی امریکی سازش پر عملدرآمد کررہے ہیں تا کہ ان مذاہب اور ادیان کے پیروکار ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے رہیں۔انھوں نے کہا: مصر میں آل سعود کی مداخلت اور سعودی حکومت کی طرف سے مصر کے مختلف گروپوں کو مالی امداد کی فراہمی ابھی تک ذرائع ابلاغ کی زینت نہیں بن سکی ہے لیکن اس اسکینڈل کے باوجود آل سعود کے حکام مصر میں اپنے سفارتی دفاتر بند کرکے اس ملک پر اپنا دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ .......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی عمومی صورت حال؛العوامیہ میں شیعہ رہائشی علاقوں پر سعودی افواج کی فائرنگ