ابنا: علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا ہے کہ دہشتگردی چاہے جس شکل میں بھی ہو، اس کی مذمت کرتے ہیں اور دہشتگردی ہر حال میں قابل مذمت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے علماء، سرکاری اداروں کے اہکاروں اور عام بے گنا ہ نہتے عوام پر شدید دکھ اور افسوس ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں اختر محمد روڈ پر قاری محمد عظیم جن کا تعلق معروف دینی درسگاہ سے ہے کو شہید کر دیا گیا، جو کھلی دہشتگردی ہے۔ اسی طرح کے ایک اور واقعہ میں بے گناہ حاجی محبوب یوسفزئی کو ارباب کرم خان روڈ کلی جیو میں نامعلوم دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کو یقینی بنائے، لیکن تاحال حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے باعث عوام کو شدید تشویش لاحق ہے اور ان تمام واقعات کی اصل ذمہ دار صوبائی حکومت ہے، علامہ سید ہاشم موسوی نے تمام سیاسی اور دینی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ کوئٹہ میں جاری دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کر کے عوام کو حقائق سے آگاہ رکھیں اور ان میں بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین امن و امان کے حوالے سے حکومتی اداروں کی لاپرواہی کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ دہشتگردی جو امن و امان کے لئے زہر قاتل ہے، کے خلاف فوری اور سنجیدہ کارروائی عمل میں لاکر دہشتگردی کے درپردہ حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے اور دہشتگردی میں ملوث افراد کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین دہشت گردی کا نشانہ بنے والے تمام شہداء کے لواحقین کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے اور شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی شفایابی کے لئے دعا گو ہے۔
.......
/169