2 مئی 2012 - 19:30

ايران کي وزارت خارجہ ميں افغانستان کے امور کي کميٹي کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر امريکا افغانستان ميں ايک فوجي طاقت ميں تبديل ہوجائے تو روس اور چين بھي اس ملک کي سيکورٹي کے ميدان ميں اتر جائيں گے-

ابنا: محسن پاک آئين نے امريکا اور افغانستان کے اسٹريٹيجک سمجھوتے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ ليتے ہوئے کہا کہ اس سمجھوتے کي سب سے بڑي کمي يہ ہے کہ  افغانستان ميں امريکا کے فوجي اڈوں کے باقي رہنے يا نہ رہنے کے بارے ميں کوئي واضح بات نہيں کہي گئي ہے جوعلاقائي ممالک کے ليے تشويشناک ہے-

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے پڑوسي ممالک، روس اور وسطي ايشيا کے بعض ممالک ميں اس سمجھوتے پر تشويش پائي جاتي ہے کيونکہ يہ سمجھوتہ امريکا کي اس روش کي ياد دلاتا ہے کہ دوسري عالمي جنگ کے بعد اس نے جس علاقے ميں بھي اپنے پير جمائے، وہاں سے وہ باہر نہيں نکلا-

محسن پاک آئين نے کہا کہ اگر اس سمجھوتے کو عملي جامہ پہنا ديا گيا تو ايک جانب افغانستان، روس اور چين جيسے ممالک کے درميان مقابلہ آرائي کے محاذ ميں تبديل ہو جائے گا اور دوسري جانب امريکا کو علاقے ميں اپنے اہم اہداف کے حصول کے بجائے نئے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان بحرانوں کو کنٹرول کرنا واشنگٹن کے ليے بہت زيادہ دشوار ہوگا.

.......

/169