اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یونان کے آرتھوڈاکس چرچ کے نمائندے آرچ بشپ اگناتیوس ستاوروپولوس (Ignatius Stavropoulos) تہران میں "دین اور معاصر بیداری" کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوسرے روز کے مقرر تھے جنھوں نے اپنے خطاب بعنوان "معاشروں کی بیداری اور آگہی میں دینی راہنماؤں اور ان کے پیروکاروں کا کردار" میں کہا: شہریوں کے اخلاقی رجحانات دین کے توسط سے تشکیل پاتے ہيں اور یہ سلسلہ روایتی صورت میں شہریوں کی تربیت میں مؤثر ہے۔انھوں نے کہا: حکومت عوام کو معاشرتی امور میں مؤثر اور سنجیدہ کردار ادا کرنے کے لئے تعلیم دیتی ہے، جدید تہذیب نے آج تک ثابت کرکے دکھایا ہے کہ موجودہ زمانے کی روایات کی جڑیں منورالفکری پر مبنی انسانیاتی رجحانات میں پیوست ہیں، درحقیقت دین ـ بالخصوص تین توحیدی ادیان ـ کا عقیدہ ہے کہ صلح و آشتی اور امن و سکون اللہ کی طرف سے معرض وجود میں آتا ہے؛ تاہم مغربی دنیا میں منورالفکری کے زمانے میں یہ اعتقاد دیوار سے لگایا گیا۔یونان کے آرتھوڈاکس چرچ کے نمائندے نے کہا: دین ہی بےخدائی کا فعال اور متحرک دشمن رہا ہے، دین ہی کا کام ہے کہ تمام چیزوں ـ بالخصوص انسانوں ـ کو نجات دلائے۔ بےخدائی پر یقین رکھنی والی نئی تحریک کی کوشش ہے کہ دین کو ایک قدیم تصور کی حیثیت سے مورد ملامت ٹہرائے ، ان کے ہاں دینی عقیدہ سب سے آخری رکاوٹ سمجھا جاتا ہے اور ان کا دعوی ہے کہ اگر دین کو ایک طرف رکھا جائے تو لوگوں کے لئے صلح و آشتی اور پر امن زندگی فراہم ہوتی ہے۔ آرچ بشپ اگناتیوس ستاوروپولوس نے کہا: آج کے اس زمانے میں انسانوں کی بیداری میں دینی راہنماؤں کا کردار ماضی کی نسبت کہیں زيادہ اہم اور نمایاں ہے؛ دینی راہنما وہ لوگ ہیں جو دین کو بچا سکتے ہیں؛ دینی راہنماؤں کو دینی ماحول تیار کرنا چاہئے اور ان راہنماؤں کا یہ کردار جدید زمانے کے بےخدا عناصر کے خیالات و اعتقادات کے خلاف ہے۔انھوں نے کہا: خداپرستی کے مخالفین (بےخدائی کے پرچارک) جو عقلیت مطلق کی طرف رجحان رکھتے ہیں وہ ہماری روایات، سنتوں اور افکار اور ہماری دینداری کا ادراک نہیں کرسکتے کیونکہ ہر وہ چیز جو [محسوسات کی] کی اس دنیا سے باہر ہو وہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ آج ضرورت اس ام کی ہے ان کو ایک مدلل جواب دیں۔ تین بڑے توحیدی ادیان کی بشریاتی (Anthropological) سنت مشترک ہے وہ سنت جو جدید تصوف اور مغربی منورالفکری (Intellectuality) کے خلاف ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام ادیان میں آدم و حوا کی داستان ایک جیسی ہے، ان تین ادیان کا بنیادی اور کلیدی کردار دنیا کو بیدار کرنے کے سلسلے میں ہمارے کردار کا تعین کرتا ہے۔ ہمیں منورالفکری کے زمانے میں جڑ پکڑنے والے سیکولر سانپ کی حقیقت عیاں کرنی پڑے گی۔انھوں نے کہا: ہمیں ان تین توحیدی ادیان میں اعتقادات کی گوناگونی اور رنگارنگی ہمارے لئے خوف کا باعث نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہم سب کو انسانوں کی بیداری پر تاکید کرنی چاہئے۔ آرچ پشپ اگناتیوس ستاوروپولوس نے کہا: اگر دینی راہنما اپنے فرائض پر عمل نہ کرسکیں پورا دینی معاشرہ نابودی کی طرف جائے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
































۔۔۔۔۔۔۔
/110