ابنا: انھوں نے کل اسلام آباد میں پاکستان و افغانستان کے امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے مارک گراسمین سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پر امریکہ کے جاری ڈرون حملوں پر احتجاج اور انھیں فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ۔ اس سے قبل پاکستان کی قومی اسمبلی نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا تھا ۔
اگر چہ پاکستان کے پارلیمانی نمائندوں نے نیٹو سپلائی لائن غیر مشروط طور پر کھولے جانے کی منظوری دیدی تاہم امریکہ سے ڈرون حملے بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے جاری ڈرون حملے بند کرانے کا مسئلہ، جن میں ابتک سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں اس ملک کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کیلئے تین اعتبار سے کافی اہمیت رکھتا ہے ۔
پہلے یہ کہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی پر عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناتوانی کا الزام لگا رہی ہیں اور وہ اس مسئلے سے آئندہ انتخابات میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے میں استفادہ کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں ۔
دوسرے یہ کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے جاری ڈرون حملے اس بات کا باعث بن رہے ہیں کہ پاکستان کے عوام، اپنے ملک کی فوج کی توانائی پر شک و شبھہ کا اظہار کریں اسلئے کہ پاکستانی عوام کی نظر میں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ ان کے ملک کی فوج، جس نے بیرونی خطروں کا مقابلہ کرنے کیلئے خود کو آمادہ کر رکھا ہے اور علاقے کی ایک طاقتور فوج بھی ہے امریکی حملوں کا مقابلہ کرنے کی کیوں توانائی نہیں رکھتی؟ وہ بھی ایسے حملے جو پاکستان کے حکمرانوں کی نظر میں پاکستان کے قومی اقتدار اور ارضی سالمیت کے منافی شمار ہوتے ہیں ۔
اور تیسرے یہ کہ ان حملوں پر پاکستانی عوام کا جاری احتجاج حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی پوزیشن متاثر کرسکتا ہے اسلئے کہ عوام میں یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت، عوام کی توقعات پوری کرنے کی توانائی نہیں رکھتی خاصطور سے ایسی حالت میں کہ پاکستانی عوام کے احتجاجات کے باوجود امریکی ڈرون حملے بدستور جاری ہیں اور پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ حکومت اس سلسلے میں عالمی اداروں سے رجوع اور پاکستان سے امریکی سفیر کو نکال باہر کرے ۔
جبکہ عمل میں نہ صرف ایسا نہیں ہورہا ہے بلکہ اسلام آباد بدستور امریکہ کے سیاسی و فوجی حکام کی رفت و آمد کا مرکز بھی بنا ہوا ہے اور پاکستانی عوام اسے صرف امریکہ کی غنڈہ گردی سمجھتے ہیں ۔ بہرحال امریکہ کے جاری ڈرون حملوں سے پاکستان میں پیپلز پارٹی کیلئے پیدا ہونے والے مسائل کے علاوہ حکومت پاکستان ان حملوں کو دہشتگردی کے مقابلے میں اسلام آباد کے منصوبوں کی ناکامی کا باعث بھی سمجھتی ہے اسلئے کہ امریکہ کے جاری ڈرون حملوں اور ان حملوں میں عام شہریوں کی ہونے والی ہلاکتوں سے اس بات کا موقع میّسر ہورہا ہے کہ دہشتگرد اور انتہا پسند گروہ امریکا کا مقابلہ کرنے کے بہانے لوگوں کو ان گروہوں میں شمولیت کی ترغیب دلائیں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان میں صرف خونریزی میں اضافہ ہوگا ۔ .......
/169