25 اپریل 2012 - 19:30

صہیونی ریاست کی فوج کے سربراہ بنی گانتس نے صہیونی اخبار ہاآرتص کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنائے گا اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں کو دہراتے ہوئے دعوی کیا کہ اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی صلاحیت و توانائی رکھتا ہے۔

ابنا: صہیونی حکام کچھ عرصہ پہلے تک اور استنبول مذاکرات سے قبل تک یہ بات کہتے تھے کہ ایران ایک سال تک ایٹمی ہتھیار تیار کر لے گا۔ استنبول مذاکرات کے بعد بھی صہیونی ریاست کے حکام نے یہ بات کہی کہ ایران نے گروپ پانچ پانچ جمع ایک ساتھ مذاکرات کے آئندہ دور تک مہلت حاصل کر کے اپنے ایٹمی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے وقت حاصل کیا ہے۔

صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے استنبول مذاکرات کے نتیجے کو مغرب کی طرف سے ایران کے لیے تحفہ قرار دیا۔ صیہونی وزیراعظم نے سی این این کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف پابندیاں کارآمد ہیں لیکن کافی نہیں ہیں۔

صہیونی ریاست کے نائب وزیراعظم دانی ایالون نے بھی کہا ہے کہ مذاکرات کی مثبت فضا کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے لیکن اب صہیونی ریاست کے اعلی ترین فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران نے ابھی تک ایٹمی ہتھیار بنانے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

بعض صحافتی اور صہیونی حلقوں نے بنی گانتس کے لب و لہجے کو صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کے موقف سے مختلف قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود کہا جا سکتا ہے کہ بنی گانتس کا بیان کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل بھی اسرائیل اور امریکہ کے بعض حکام نے کہا تھا کہ ایران نے ابھی تک ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

یہ بیانات البتہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کے باوجود اور بےبنیاد دعووں کے تناظر میں کچھ اس انداز سے دیے جا رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اس بنا پر بنی گانتس کا بیان بھی ایران کے خلاف صہیونی ریاست کے حکام کی لفاظی کی تکرار ہی ہے۔

اگرچہ صہیونی حکام اس بات سے مکمل طور پر واقف ہیں کہ وہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی طاقت و توانائی نہیں رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ امریکہ اور یورپ کو اس قسم کا حملہ کرنے کی ترغیب دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اب تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ استنبول مذاکرات کے دائرے میں ایران کے خلاف دھمکیاں اپنا رنگ کھو چکی ہیں۔ شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کہ بنی گانتس نے دیگر صہیونی حکام کے موقف سے دوری اختیار کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو ہمیشہ ایران پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود صہیونی حکام متضاد بیانات دے کر بدستور یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکہ اور اپنے بعض اتحادیوں کو ایران کے خلاف عملی اقدام کرنے پر قائل کر سکیں لیکن یہ سب اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں کہ جب اس ناجائز حکومت نے مغربی ممالک کی مدد سے تین سو سے زائد ایٹمی وار ہیڈز تیار کیے ہیں اور وہ مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیار رکھنے والی واحد حکومت ہے اور اس بنا پر اسرائیل رائے عامہ کے سخت دباؤ میں ہے۔

سیاسی مبصرین ان حقائق کے پیش نظر اسرائیل کے آرمی چیف بنی گانتس کے بیان کو اس بات سے قطع نظر کہ یہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے موقف کے سلسلے میں کام کی تقسیم ہو سکتی ہے، ایران کے خلاف مہم جوئی کے بارے میں فوج کے سربراہوں کی تشویش کی علامت قرار دیتے ہیں کیونکہ اسرائیل کے فوجی حکام اس حکومت کے سیاستدانوں سے زیادہ ایران کے جوابی حملے کے مقابلے میں اس فوج کی کمزوریوں اور ناتوانیوں سے واقف ہیں۔

اسی بنا پر وہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ روایتی لفاظیوں سے آگے نہ بڑھیں اور ایسی صورت حال میں وہ ترجیح دیتے ہیں کہ سفارتی قافلے سے پیچھے نہ رہیں۔ کیونکہ محاذ آرائی کے بجائے اگر ایران کے ساتھ تعاون اور گفتگو کی روش اختیار کی جاتی ہے اور مقابلہ آرائی کے بجائے ایران کے ساتھ گفتگو کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو یہ اسٹریٹجک تبدیلی سمجھی جائے گی کہ جو اسرائیلی حکومت کے لیے اس کی کمزور پوزیشن کے پیش نظر بہت مہنگی ثابت ہو گي۔

....... /169