24 اپریل 2012 - 19:57

ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (اورقرابت دار کو اس کا حق دو) تو نبی اکرم (ص) نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور فدک انہیں عطا فرمایا"۔

قال ابوسعید الخدری : " لمّا نزلت هذه الآیة "و آت ذاالقربی حقه" دعا النبی صلی  اللہ علیه وآله و سلم فاطمة و اعطاها فدک" (1)

ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (اورقرابت دار کو اس کا حق دو) تو نبی اکرم (ص) نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور فدک انہیں عطا فرمایا"

قال ابوبکر: قال رسول  اللہ صلی  اللہ علیه و آله و سلم : لا نورث، ما ترکنا صدقة"

فقال علی علیه السلام: " وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ" (2) و قال زکریا: يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ " (3)

فقال ابوبکر: هکذا

فقال علی علیه السلام هذا کتاب  اللہ ینطق (4)

ترجمہ: ابوبکر نے کہا: رسول  اللہ (ص) نے فرمایا ہے : ہم انبیاء ورثہ نہیں چھوڑتے ہم اپنے بعد جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔

علی (ع) نے فرمایا: اور سلیمان داؤد کا وارث بنا" اور " زکریا نے عرض کیا (پس مجھے ایسا فرزند عطا کردے) جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو"

ابوبکر نے کہا: ایسا ہی ہے۔

پس علی (ع) نے فرمایا: یہ خدا کی کتاب ہے جو بول رہی ہے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110