23 اپریل 2012 - 19:30

شہید کے جسم پر نشانات سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا خلیفی درندوں نے شہادت سے قبل ان کے جسم پر گرم استری رکھی تھی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں عوام کے انقلاب پر پردہ ڈالنے کے ئے ہونے والی فارمولا ون کار ریلی کے موقع پر آل خلیفہ کے مسلح جلادوں نے ایک انقلابی نوجوان کو شارٹ گن کی فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ابوصیبع نامی قصبے میں آل خلیفہ کے گماشتوں نے مظاہرین پر گولی چلائی جس میں "الشاخورہ" کے رہائشی اور انقلاب 14 فروری کے رکن نوجوان انقلابی راہنما "صلاح عباس حبیب آل موسی" گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگئے۔ ادھر 14 فروری انقلابی اتحاد نے اپنے بیان میں شہید صلاح حبیب کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے گماشتوں نے انہيں اغوا کرلیا تھا اور انہیں غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور نے آخر کار انہیں گولی مار کر شہید کردیا۔14 فروری انقلابی اتحاد نے عوام سے اپیل کی تھی کہ شہید صلاح حبیب کے جلوس جنازہ میں بھرپور شرکت کرنے کے لئے تیار رہیں۔شہید کے جسم پر نشانات سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا خلیفی درندوں نے شہادت سے قبل ان کے جسم پر گرم استری رکھی تھی۔دریں اثناء رپورٹوں کے مطابق آل سعود کے حمایت یافتہ بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے ايک بار پھر شہيد کے جلوس جنازہ ميں شريک لوگوں پر حملے کئے ہيں-بحرين کے سياسي کارکنون کا کہنا ہے کہ سعودي عرب کے حمايت يافتہ سيکورٹي اہلکاروں نے جلوس جنازہ ميں شريک لوگوں پر اس وقت حملہ کرديا جب انہوں نے اپنے جمہوري حقوق کي بالادستي اور شاہي حکومت کے خاتمے کے حق ميں نعرے لگانا شروع کئے۔ہزاروں کي تعداد ميں بحريني شہري سيکورٹي فورس کے تشدد کے نتيجے ميں شہيد ہونے والے نوجوان کے جلوس جنازہ ميں شرکت کے لئے دارالحکومت منامنہ کے نواحي علاقے بلاد قدیم کي سڑکوں پر آئے انہوں نے شاہي حکومت کے خلاف زبردست نعرے لگائے-مذکورہ نوجوان کي لاش ہفتے کے روز منامہ کے نواحي علاقے سے برامد ہوئي تھی اور آل خلیفہ کے درندوں نے انہیں اغوا کرکے تشدد کے بعد گولی مار کر شہید کردیا تھا- شہيد ہونے والے نوجوان کو گولياں لگي ہيں جبکہ اسکے ہاتھوں اور پيروں پر تشدد کے نشانات واضح ہيں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے قتل کرنے سے قبل زبردست تشدد کا نشانہ بنايا گيا ہے- بحريني يوتھ سوسائٹي فار ہيومن رائٹس کے مطابق سعودي حمايت يافتہ سيکورٹي اہلکاروں نے مذکورہ نوجوان کو اس وقت گوليوں کا نشانہ بنايا جب وہ ان سے جان چھڑا کر بھاگنے کي کوشش کررہا تھا اور انہیں گرفتار کرکے شدید ترین درندگی کا نشانہ بنایا۔۔۔۔۔۔/110

يعاني الشهيد من آثار كسر في الرقبة..

شہید کے بدن پر گویا گرم استری پھیر لی گئی ہے بدن جگہ جگہ جلا ہوا ہے جس سے خلیفی سعودی منطق کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔

 

شہید کے زخموں سے اب بھی خون رس رہا ہے انہیں شہادت سے قبل شارٹ گن سے زخمی کیا گیا تھا اور انسانوں کی طرح اسپتال منتقل کرنے کی بجائے درندوں نے انہيں اذیتکدوں میں منتقل کیا اور اپنی اصل شناخت کراتے ہوئے انہیں اس طرح اپنے بغض کا نشانہ بنایا

ہاتھوں پر ٹارچر کے اثرات بدن پر گولیوں کے اثرات اور سینے پر جلائے جانے کے نشانات

شہید کو غسل دیا جارہا ہے

................

انتهي/212