23 اپریل 2012 - 19:30

سعودي عرب کے حمايت يافتہ بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے ايک بار پھر شہيد کے جلوس جنازہ ميں شريک لوگوں پر حملے کئے ہيں-

ابنا: بحرين کے سياسي کارکنون کا کہنا ہے کہ سعودي عرب کے حمايت يافتہ سيکورٹي اہلکاروں نے جلوس جنازہ ميں شريک لوگوں پر اس وقت حملہ کرديا جب انہوں نے اپنے جمہوري حقوق کي بالادستي اور شاہي حکومت کے خاتمے کے حق ميں نعرے لگانا شروع کئے-

کہا جارہا ہے کہ ہزاروں کي تعداد ميں بحريني شہري سيکورٹي فورس کے تشدد کے نتيجے ميں شہيد ہونے والے نوجوان کے جلوس جنازہ ميں شرکت کے لئے دارالحکومت منامنہ کے نواحي علاقے بلاد قادم کي سڑکوں پر آئے انہوں نے شاہي حکومت کے خلاف زبردست نعرے لگائے-

مذکورہ نوجوان کي لاش ہفتے کے روز منامہ کے نواحي علاقے سے برامد ہوئي تھي -شہيد ہونے والے نوجوان   گولياں لگي ہيں جبکہ اسکے ہاتھوں اور پيروں پر تشدد کے نشانات واضح ہيں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے قتل کرنے سے قبل زبردست تشدد کا نشانہ بنايا گيا ہے- بحريني يوتھ سوسائٹي فار ہيومن رائٹس کے مطابق سعودي عرب کے حمايت يافتہ سيکورٹي اہلکاروں نے مذکورہ نوجوان کو اس وقت گوليوں کا نشانہ بنايا جب وہ ان سے جان چھڑا کر بھاگنے کي کوشش کررہا تھا-

سياسي کارکنون کا کہنا ہے کہ بحريني حکومت نے مذکورہ نوجوان کي لاش دون تک اپي تحويل ميں رکھنے بعد دي تاکہ فارمولاون ريس کے موقع اسکي تدفين کو روکا جاسکے- بحرين کي سب سے بڑي اپوزيشن پارٹي جميعت الوفاق نے اس بات کي تصديق کي ہےکہ مذکورہ بحريني نوجوان کو سعودي عرب کے حمايت يافتہ سيکورٹي اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنا کر شہيد کيا ہے- جميعت الوفاق کے رہنما شيخ علي سلمان نے کہا کہ اگر شاہي حکومت نے ملک ميں سياسي اصلاحات نہ کيں تو بدامني اور تشدد ميں اضافہ ہوسکتا ہے-

انہوں نے کہ حکومت عوامي مطالبات پر کان دھرنے کے لئے تيار نہيں  اور اسے سياسي اصلاحات ميں بھي کوئي دلچسپي نہيں ہے- واضح رہے کہ بحرين ميں فروري دوہزار گيارہ انقلابي تحريک جاري ہے اور لوگ ملک ميں قائم خانداني آمريت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہيں-

.......

/169