ابنا: سیاسی ماہرین موجودہ حساس حالات کےپیش نظر اس دورے کو نہایت اہم قراردے رہے ہيں ۔ اس لحاظ سے ماہرین کاخیال ہے کہ تہران میں مالکی کےمذاکرات علاقائی حالات اوردوطرفہ تعلقات میں استحکام کےتناظرمیں ہیں ۔
عراق نے اب تک سخت مرحلےسرکئےہیں جس میں سب سےاہم امریکہ کےقبضےکےبعد کاعبوری دور رہا ہے۔ اگرچہ اس وقت بھی عراق کو چیلنجوں کاسامنا ہے اس کےباوجود سیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ علاقائی اورملکی تمام سازشوں کےباوجود مالکی حکومت نےیہ ثابت کردیا ہے کہ عراق کےاندر اپنےصحیح مقام تک پہنچنے کےلئے ضروری عزم وارادہ موجود ہے۔
نوری مالکی کادورہ ایران ایسےحالات میں انجام پارہا ہے کہ عراقی کردستان کےصدر مسعود بارزانی نےبھی ترکی کادورہ کرکے دہشتگردی کی کاروائيوں میں مطلوب طارق الھاشمی سےملاقات کی ہے ماہرین اس ملاقات کو ترک وزیراعظم رجب طیب اردوغان کی قیادت میں عراقی حکومت کاتختہ الٹنے کےتناظرمیں دیکھ رہے ہیں۔
اس مسئلےسےقطع نظر مسلمہ امر یہ ہے کہ عراق میں عدم استحکام کااس ملک کےساتھ ہی پورےعلاقے پرنہایت منفی اثرپڑے گا البتہ ملت عراق اپنےتمام ترمذہبی ، سیاسی اورنسلی رجحانات کےباوجود عملی طور پریہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنےقومی حقوق اورمفادات کاتحفظ کرسکتی ہے۔
اس حقیقت کےپیش نظرکہ عراق میں قیام امن ایک ایسا اہم موضوع ہے جس پراسلامی جمہوریہ ایران نےہمیشہ ہی تاکید کی ہے۔
اس بنا پر عراقی وزیراعظم کا دورہ تہران درطرفہ تعلقات میں فروغ پر مرکوز ہونےکےساتھ ہی عراق اورعلاقےمیں ثبات واستحکام پر استوار ہے اوریہ دورہ اس لحاظ سےنہایت اہمیت کاحامل ہے۔بالخصوص ایسےعالم میں جب مالکی حکومت کی جانب سے عراق میں امریکی فوج کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کی کھل کرمخالفت کی بنا پر امریکی نہيں چاہتےکہ عراق میں امن وامان ہو تاکہ وہ ہرممکن طریقے سے یہ ثابت کرسکیں کہ عراق میں ان کی موجودگی ضروری ہے۔
اس کےساتھ ہی امریکہ کی یہ بھی کوشش رہی ہے کہ وہ ایران پرالزامات لگاکر عراق ایران تعلقات میں فروغ کابھی مخالف رہا ہے اگرچہ عراقی حکام اس بات کےپوری طرح مخالف رہے ہيں اور وہ جانتے ہيں کہ امریکہ کی جانب سے ایران پرالزام ، ایران اورعراق کےتعلقات کونقصان پنہچاسکتا ہے لہذا انھوں نےہمیشہ امریکی الزامات پرناراضگی کااظہار کیا ہے۔عراق کی نظر میں اس میں کوئي شک نہيں کہ عراق کےسلسلےمیں اسلامی جمہوریہ ایران کےتعلقات نہایت گہرے اوردوستانہ ہیں اس بناپردونوں ممالک کےحکام اپنےتعلقات میں کسی حد وحدود کےقائل نہيں ہيں اور ہمیشہ ہی تعاون میں فروغ پرتاکیدکرتےرہےہيں۔
.......
/169