19 اپریل 2012 - 19:30

تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ جنتی کی امامت میں ادا کی گئي۔

ابنا: خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی توانائياں علاقائي ملکوں منجملہ خلیج فارس کے ملکوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہیں۔

آیت اللہ جنتی نے ایران کے خلاف خلیج فارس کے بعض ملکوں کے مواقف کی مذمت کرتےہوئے علاقائي ملکوں کو نصحیت کی کہ انہیں امریکہ اور صہیونی ریاست کے مفادات کی راہ میں قدم نہیں بڑھانا چاہیے کیونکہ ایران کی توانائياں علاقے کے ملکوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہیں۔

آیت اللہ جنتی نے کہا کہ امریکہ اور اسکے اتحادی اسلامی بیداری کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا زوال یقینی ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے استنبول مذاکرات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ یہ مذاکرات کامیاب رہے ہیں اور مغربی ملکوں نے یورینیم افزودہ کرنے کا ایران کا حق تسلیم کرلیا ہے۔

خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے بارہا تاکید فرمائي ہےکہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے درپئے نہیں ہے اور استنبول مذاکرات میں مد مقابل کو یہ باور ہوگيا کہ ایران کی ایٹمی پالیسیاں قابل اعتماد ہیں اور ایران کا مقصد ایٹم بم بنانا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر لاگو پابندیوں کا خاتمہ مغرب کی جانب سے نیک نیتی کا ثبوت ہوگا اور پابندیوں کےخاتمے سے ایرانی قوم مغربی فریق پر اعتماد کرسکتی ہے۔

خطیب جمعہ تہران نے رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے رواں شمسی سال کو قومی پیداوار، ایرانی مشاغل و سرمائے کی حمایت سے موسوم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سرمایہ کاری کی حمایت اور داخلی پیداوار میں اضافہ سے مکمل طرح سے ایران خود کفیل ہوسکتا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ .......

/169