15 اپریل 2012 - 19:30

ايران کے ايٹمي مذاکرات کار اور سپريم کونسل برائے قومي سلامتي کے سکريٹري سعيد جليلي نے ايٹمي مسئلے ميں ايران کے موقف کي وضاحت کي ـ

ابنا: اطلاعات کے مطابق سعيد جليلي نے ہفتے کي شام استانبول ميں گروپ  پانچ جمع ايک کے ساتھ اپنے مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو جانے کے بعدنامہ نگاروں سے گفتگو ميں کہا کہ گروپ پانچ جمع ايک کے ممالک نے ايٹمي ترک اسلحہ کے سلسلے مين ايران کے موقف کا خير مقدم کيا ہےـ

انہوں نے بتايا کہ روس، چين، امريکہ، فرانس، برطانيہ اور جرمني پر مشتمل گروپ پانچ جمع ايک نے ايٹمي ہتھياروں کے حرام ہونے پر مبني قائد انقلاب اسلامي کے فتوے کا خير مقدم کيا اور اسے بہت ذي قيمت قرار دياـ

انہوں نے استنبول مذاکرات کے سلسلے ميں بتايا کہ ہم نے ہميشہ يہ کہا ہے کہ ہم مذاکرات کا خير مقدم کرتے ہيں اور ساتھ ہي ہم يہ بھي واضح کرتے رہے ہيں کہ ملت ايران کے سلسلے ميں دھونس اور دھمکي کي پاليسي کا کوئي نتيجہ نکلنے والا نہيں ہےـ

سعيد جليلي نےمزيد کہا کہ استنبول مذاکرات ميں ہميں مد مقابل فريق کے اندر گفتگو ميں دلچسپي کا جذبہ نظر آيا جو مثبت پہلو ہےـ

انہوں نے کہا کہ اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ کسي بات پر کوئي اختلاف نہيں تھا تاہم دونوں فريقوں کے لئے قابل قبول نکات بھي متعدد تھےـ يورپي يونين کے شعبہ خارجہ پاليسي کي سربراہ اور گروپ پانچ جمع ايک کي جانب سے ايٹمي مذاکراتي ٹيم کي سربراہ کيتھرين ايشٹن نے بھي استانبول مذاکرات کو تعميري اور مثبت قرار دياـ ايشٹن نے کہا کہ بہت سنجيدہ مذاکرات ہوئےـ

انہوں نے بتايا کہ اتفاق رائے کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور تيئيس مئي کو عراق کے دار الحکومت بغداد ميں ہوگاـ

انہوں نے کہا کہ ا يران مذاکرات کے لئے سنجيدہ نظر آيا اور مجموعي طور پر مذاکرات تعميري اور مفيد تھےـ ايشٹن نے کہاکہ اگلے دور کے مذاکرات اين پي ٹي کي بنياد پر ہوں گےــ.......

/169