15 اپریل 2012 - 19:30

افغانستان میں طالبان نے مختلف شہروں کے مختلف مقامات پر وسیع پیمانے پر حملے کئے ہیں ۔

ابنا: یہ حملے آج افغانستان کے دار الحکومت کابل سمیت قندھار ۔ ننگر ہار ۔ لوگر اور پکتیا صوبوں میں کئے گئے جن میں ہونے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں ابھی کوئی صحیح رپورٹ نہیں ملی ہے تاہم حکومت افغانستان نے اعلان کیا ہے کہ ان حملوں کے دوران طالبان کے تقریبا سو افراد ہلاک و زخمی اور یا انھیں گرفتار کیا گیا ہے ۔ کابل میں ہونے والے حملوں میں امریکہ ۔ روس ۔ برطانیہ اور جرمنی کے سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں جرمنی کے سفارت خانے کو کچھہ نقصان بھی پہنچا ۔

ان حملوں کے بعد طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان حملوں کو موسم بہار کے آغاز میں افغانستان میں افغان اور غیر ملکی فوجیوں پر حملوں کے نئے دور کے آغاز سے تعبیر کیا ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ چند ماہ قبل قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والے امن مذاکرات تعطل سےدوچار ہوگئے ہیں اور طالبان کے بقول مذاکرات کا یہ عمل امریکہ کی جانب سے معاہدوں پر عملدرآمد کا طریقۂ کار واضح ہونے تک معطل کیا گیا ہے ۔ طالبان نے دعوی کیا ہے کہ امریکی نمائندوں نے حالیہ مذاکرات میں طالبان نمائندوں کو مطالبات کی ایک ایسی فہرست پیش کی ہے جو فریقین کے ابتدائی سمجھوتوں کے خلاف ہے ۔ ایسا خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی طالبان نے افغانستان کی سیکیورٹی کی صورت حال اپنے زیر اثر قرار دینے کیلئے اس ملک کے مختلف شہروں میں حملوں کا یہ نیا سلسلہ شروع کیا ہے ۔

جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے ان حملوں کا مقصد امریکی مطالبات میں توازن برقرار کرنا ہے تاہم ان حملوں کا ایک اور مقصد طالبان کی جانب سے ملک میں وحشت کا ماحول پیدا کرکے اپنی طاقت کا اظہار کرنا بھی ہوسکتا ہے ۔ افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلا کیلئے مقرر کردہ تین برسوں میں سے ایک سال کا وقت پورا ہونے کے پیش نظر طالبان کی نظر میں افغانستان کی موجودہ صورت حال، اس ملک میں امریکہ اور نیٹو افواج کی موجودگی جاری رکھنے کے مسئلے پر افغانستان سے ان کے انخلا کے منصوبے کو زیادہ اہم بنانے کیلئے اس ملک کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نقصان پہنچانے کا مناسب موقع ہے ۔

البتہ افغانستان کے بعض سیاسی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ بدامنی کی نئی لہر، افغانستان میں بعض غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی جاری رکھنے کی توجیہ پیش کرنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔ طے شدہ سمجھوتے کے مطابق سنہ دو ہزار چودہ کے اختتام تک افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو واپس چلے جانا چاہئے مگر امریکہ ،علاقے میں اپنے تسلط پسندانہ مقاصد آگے بڑھانے کیلئےافغان فوجیوں کی تربیت کے بہانے اور اس ملک کے ساتھہ اسٹریٹیجیک تعاون کے سمجھوتے کے ضمن میں افغانستان میں اپنے مستقل فوجی اڈوں کے قیام کے ذریعے اس ملک میں اپنی کچھہ فوجی موجودگی جاری رکھنے کی توجیہ پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔
.......

/169