13 اپریل 2012 - 19:30

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلانم آباد میں واقع پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے کے سامنے آٹھ روز سے جاری احتجاجی دھرنا اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگوں کے شدید احتجاج کے بعد حکومت نے ملت جعفریہ کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرلئے ہیں۔

ابنا: جمعہ کے روز دن بھر چئیرمین سینیٹ سید نئیر حسین بخاری، پیپلزپارٹی کے سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ، نذر گوندل سمیت اسلام آباد کے چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد، ڈی سی اسلام آباد کا مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں سے گفتگو کا سلسلہ جاری رہا، جس میں اس بات کو تسلیم کیا کہ جو واقعہ گلگت میں پیش آیا ہے اس پر ملت جعفریہ کا اتنا بڑا ردعمل اور احتجاج اُن کا آئینی اور قانونی حق تھا۔ تمام مذکورہ شخصیات نے ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کو قابل عمل قرار دیا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پندرہ روز میں کسی ایک نقطہ پر بھی عمل درآمد نہ کیا گیا تو دھرنوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔ مذاکرات میں گلگت بلتستان میں امن کے قیام کیلئے شیعہ سنی مشترکہ وفود کے تبادلے پر اتفاق رائے ہوا۔ شہداء اور گم شدگان کی تعداد کے تعین اور واقعہ کے ذمہ داروں کی شناخت اور اسباب تک پہنچنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا، کمیشن میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا ایک ایک جج جبکہ شیعہ اور سنی مکاتب فکر کی طرف سے ایک ایک عالم دین ممبران ہونگے، کمیشن میں ایک وکیل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ کمیشن ایک ماہ کے اندر واقعہ کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گا، کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی رہنماؤں کی موجودگی میں ہی جاری کیا گیا۔ چلاس میں دہشتگردوں کے خلاف آپریش کے حوالے سے وزیراعلٰی گلگت بلتستان کی درخواست پر پیر تک مہلت دی گئی کہ علاقائی جرگہ تمام مجرموں کو حکومت کے حوالے کرے بصورت دیگر ان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے گا۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے مذاک میں علامہ امین شہیدی، علامہ اصغر عسکری اور علامہ اقبال حسین بہشتی شامل تھے۔
.......

/169