11 اپریل 2012 - 19:30

جزيرت العرب ميں انساني کي کميٹي نے اپني سالانہ رپورٹ ميں کہا ہے کہ سعودي حکومت نے مختلف ميدانوں ميں انساني حقوق کي پامالي کا سلسلہ جاري رکھا ہے-

ابنا: جزيرت العرب کي انساني حقوق کي کميٹي نے سعودي عرب ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کي جو رپورٹ جاري کي ہے اس ميں سياسي، عدالتي، اقتصادي ، شہري اور بين الاقوامي سطح پر تمام ميدانوں ميں خلاف ورزياں شامل ہيں۔

  اس رپورٹ کے مطابق آل سعود حکومت نے اس ملک کے شہريوں کو ان کے بنيادي حقوق سے محروم رکھتے ہوئے ملک پر  آمرانہ نظام مسلط کررکھا ہے - سعودي عرب کے عوام کو  اپنے ملک کے نظام حکومت ميں مداخلت کا  کوئي حق حاصل نہيں ہے حتي کسي بھي قسم کي سياسي تبديلي کي بات کرنے کا حق بھي انہيں نہيں ديا گيا ہے۔

  سعودي عرب ميں صرف  بلدياتي کونسلوں کے انتخابات ہوتے ہيں اور ان ميں بھي خواتين کو ووٹ دينے کا حق نہيں ہے اور کونسل کے پچاس فيصد اراکين کا تقرر حکومت اور شاہ کرتا ہے - اس کے علاوہ ملک ميں کسي بھي قسم کا اليکشن نہيں ہوتا۔

  مذہبي اور فرقہ وارانہ امتياز اس ملک ميں بہت زيادہ ہے اور ملک کے مشرقي علاقوں کے عوام کو صرف شيعہ ہونے کي بنا پر  بہت زيادہ دبا کے رکھا گيا ہے۔

  اس ملک ميں آزادي عقيدہ نام کي کوئي چيز نہيں ہے- بيان کي آزادي پر بھي اس ملک ميں سخت پابندي ہے ہر قسم کي سياسي تنقيد کو غير قانوني قرار ديا گيا ہے۔ اس ملک ميں تيس ہزار سے زائد سياسي قيديوں کو مقدمہ چلائے بغير جيلوں ميں بند رکھا گيا ہے۔

  انسداد دہشتگردي کے نام سے نئے قانون کے تحت ملک کے شاہ اور شاہي خاندان کي مخالفت کو دہشتگردي کے زمرے ميں رکھا گيا ہے جس پر انساني حقوق کي عالمي تنظيموں نے بھي سخت اعتراض کيا ہے ۔ 

 اس کے علاوہ حکومت اور سياسي نظام کے خلاف پر امن اجتماعات اور مظاہروں پر بھي سخت پابندي ہے  اور درباري ملاؤں نے حکومت کے خلاف ہر قسم کے مظاہرے کو حرام قرار دے رکھا ہے - ليکن مشرقي علاقوں ميں عوام نے تقريبا ايک سال سے آل سعود حکومت کے مظالم کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھا ہے جن کے دوران آل سعودي کي سيکورٹي فورس کے تشدد اور فائرنگ ميں بہت سے افراد شہيد ہوچکے ہيں۔........

/169