11 اپریل 2012 - 19:30

زہرا یوسف نے کہا: اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ حکومت تمامی سیاسی جماعتوں کو اپنے گرد جمع کردے اور باشعور عوام کو ساتھ ملا کر ملک کو تشدد اور انتہا پسندی سے چھٹکارا دے۔

زہرا یوسفپاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر تشویشپاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ زہرا یوسف نے کہا ہے کہ چلاس، کوئٹہ، کراچی اور پاراچنار اور گلگت میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام اسلام آباد حکومت کی ناکامی کی علامت ہے۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق زہرا یوسف نے کہا کہ گلگت، چلاس، کوئٹہ، کراچی اور پاراچنار میں حکومت ان دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے جو شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں اور دہشت گردی کے دیو کو لگام نہیں دے سکی ہے۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے ملک میں دہشتگردوں کے اقدامات اور بڑھتی ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پر تشویش ظاہر کر تےہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کو ترجیحی پروگراموں میں شامل کرے۔انہوں نے کہا کہ گلگت اور کوئٹہ کے لوگ دہشتگردی سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد منظم منصوبہ بندی کرکے جرائم کر رہے ہیں۔یاد رہے پاکستان کے مختلف علاقوں میں تکفیری دہشتگرد شیعہ کشی میں مشغول ہیں اور حکومت خاموش تماشائي بنی ہوئي ہے جبکہ گذشتہ دو دنوں کے دوران ڈیرہ اسماغیل خان کے دو ایسے شیعہ نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں جو عرصہ دراز سے پاکستانی فوج کی ناجائز حراست میں تھے اور اس سے قبل دو شیعہ قیدیوں کو سکھر اور کراچی کی جیلوں کے اندر شہید کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب سرکاری ایجنسیاں بھی براہ راست شیعہ نسل کشی میں شریک ہورہی ہیں جبکہ اس سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ شیعہ نسل کشی میں ایجنسیوں کا کردار بالواسطہ ہے اور وہ یوں کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہیں، انہیں انٹیلی جنس اور تربیت وغیرہ کے سلسلے میں مدد پہنچارہی ہیں۔ گونر فارم گلگت کے واقعے میں ایک شیعہ نوجوان دہشت گردوں کی درندگی سے بچ نکلا ہے جس نے بتایا ہے کہ غیر مسلح دہشت گرد قریبی پولیس اسٹیشن میں گھس کر ہتھیاروں سے لیس ہوجاتے تھے اور باہر آکر نہتے شیعہ مسافروں کے قتل میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے جس سے ایجنسیوں اور دہشت گردوں کے قریبی تعاون کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ دریں اثناء پاکستان کے حلقوں کا کہنا ہےکہ پاکستان میں سرگرم عمل تکفیری دہشتگردوں کو بعض عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔زہرا یوسف نے کہا عدالت چلاس کے واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو یہ کہہ کر رہا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ ان کے خلاف کافی شواہد موجود نہیں ہیں!!انھوں نے کہا کہ عدالتیں ان لوگوں کو تو کسی صورت میں رہا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جن پر مالی بدعنوانی کے الزامات ہیں اور اگر کسی کے خلاف شواہد نہ ہونے کے برابر بھی ہوں تو عدالتیں ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کرتی ہیں لیکن ان افراد کو رہا کررہی اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ عدالت ان دہشت گردوں کی رہائی کے سلسلے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ زہرا یوسف نے کہا: پاکستان کے عوام گلگت اور کوئٹہ میں دہشت گردی کی روز افزوں کاروائیوں سے فکرمند ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ جرائم پیشگی منصوبوں کے تحت انجام پارہے ہیں۔انھوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں مقیم افغانی ان وارداتوں میں ملوث ہیں اور اگر ایسا ہو بھی تو ہماری حکومت کی پالیسیوں نے ان واقعات کو ہوا دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان دنوں پاکستان یں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت عروج پر ہے اور یہ مسئلہ پاکستان کے مستقبل کے لئے بھی خطرناک ہے۔پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے کہا: جو لوگ انسانی حقوق اور انسانی شرف و کرامت پر یقین رکھتے ہیں اور ملک کا مستقبل ان کے لئے اہم ہے انہیں کسی صورت میں دہشت گردی کے ان واقعات کے سامنے خاموش نہیں رہنا چاہئے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار پوری دیانت کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔ زہرا یوسف نے کہا: اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ حکومت تمامی سیاسی جماعتوں کو اپنے گرد جمع کردے اور باشعور عوام کو ساتھ ملا کر ملک کو تشدد اور انتہا پسندی سے چھٹکارا دے۔واضح رہے کہ گذشتہ تھوڑے سے عرصے میں کالعدم مگر سرگرم دہشت گرد ٹولوں نے گلگت اور بلتستان جانے والی دو گاڑیوں کو روکا اور شناختی کارڈ چیک کرکے درجنوں نہتے شیعہ افراد کو اتار کر شہید کردیا اور دوسرے واقعے میں کئی افراد کو ذبح کرکے دریابرد کردیا۔ کہا جاتا ہے گونر فارم میں روکی گئی بس کے مسافروں کو پتھر اور ڈنڈے مار مار کر شہید کیا گیا یا پھر انہیں ذبح کیا گیا اور قریبی واقع پولیس اسٹیشن کے سرکاری اہلکار دہشت گردوں سے عوام کو بچانے کی بجائے دہشت گردوں کو ہتھیاروں سے لیس کرتے رہے۔ کوئٹہ میں اب شیعیان اہل بیت (ع) کو ہر روز ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور حکومت ابھی تک ایک فرد کو گرفتار نہیں کرسکی ہے جبکہ اس صوبے کے وزیر اعلی کو اپنی بوتل اور عیاشیوں سے فرصت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110....... /169- 110