ابنا: اسرائیلی جنگی طیاروں نےآج غزہ پٹی کےمرکزالنصیرات کیمپ پر حملہ کیا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب کل جنوبی غزہ پٹی پر صہیونی فوج کےحملوں میں دوفلسطینی شہید اور دو زخمی ہوچکےہيں۔
گذشتہ چند مہینوں میں صہیونی فوج کےحملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں میں دسیوں فلسطینی شہید اورزخمی ہوئےہیں۔
غزہ پرصہیونی فوج کےنئےحملوں کاسلسلہ دو روز قبل صیہونی وزیراعظم نتن یاہو کے اس بیان کےبعد شروع ہواہےکہ جس میں انھوں نےدو دن پہلے صہیونی اخبار معاریو کو انٹرویودیتےہوئے غزہ پٹی پربڑےپیمانے پرحملےکی تاکید کی اورضمنی طورپر غزہ پردوبارہ قبضے پربھی زور دیا۔
صہیونی وزیراعظم نتن یاھو نے تاکید کی ہے کہ یہ حکومت ان علاقوں سےباہر نہیں نکلےگی جن پراس نے انیس سوانہترمیں قبضہ کیاتھا۔
صہیونی ریاست کےتوسیع پسندانہ اقدامات اور جنگ پسندانہ موقف سے یہ واضح ہوتاہے کہ یہ حکومت علاقےمیں اپنی توسیع پسندی کوبڑھانے اور مقبوضہ علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنےکی فکر میں ہے۔نتن یاہو کےبیانات اس بات کےعکاس ہیں کہ غزہ پردوبارہ قبضہ اس حکومت کے ایک اسٹریٹیجک مقصد میں تبدیل ہوچکاہے اور یہ حکومت مختلف طریقوں سے علاقےمیں اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کا جائزہ لینےکی زمین ہموار کرنےکی کوشش کررہی ہے۔
صہیونی ریاست کی زندگی کاتسلسل جوایک جعلی حکومت ہے توسیع پسندی اورغاصبانہ قبضے پراستوار ہے اور اس حکومت کےلئے ہرطرح کی توسیع پسندی کوروکنا اوریا پسپائی اختیارکرنا اسےمشکل حالات میں ڈال دےگی ۔
گذشتہ برسوں میں صہیونی ریاست کی صورت حال پرایک نگاہ ڈالنےسے یہ سمجھاجاسکتا ہےکہ عملی طور پراس حکومت کوعلاقےمیں عوامی مزاحمت واستقامت کےمضبوط سلسلے سےروبرو ہونےکی بنا پر ذلت آمیز شکست کا سامناہے۔
صہیونی ریاست کا پسپائی پرمجبور ہونا اوردوہزار دو میں جنوبی لبنان کےایک بڑےعلاقےسےفرار کرنانیز دوہزارپانچ میں غزہ میں شکست کھانےکےبعد یہ حکومت عملی طور پر نہایت ذلت ودرماندگی کا شکار ہے۔
اس بنا پر صہیونی ریاست نے حملوں کانیاسلسلہ شروع کرکے اورجنگ کی آگ بھڑکا کر اور طاقت کامظاہرہ کرکے یہ کوشش کررہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالے۔اگرچہ صہیونی ریاست کے حملوں کےنئےسلسلےنے فلسطینیوں کومشکل حالات سےدوچار کردیا ہے لیکن ان اقدامات سے فلسطینی عوام کےپائےثبات میں لغزش پیدا نہيں ہوئي ہے۔
ماہرین کاخیال ہے کہ گذشتہ برسوں میں فلسطینی عوام کی جدوجہد اور سازباز کےعمل سےانکار نیزصہیونی ریاست کےسامنےاستقامت اس حکومت کومزید ناکامیوں سےدوچار کردےگی اورہرطرح کی مہم جوئی اس کےلئے مہنگی پڑےگی ۔ ان حالات میں صہیونی ریاست، پروپیگنڈہ مہم اور طاقت کامظاہرہ کرکے ناکامیوں پر پردہ ڈالناچاہتی ہے لیکن تجرےسےپتہ چلتا ہے کہ یہ حکومت اپنےجرائم میں شدت پیدا کرکے اپنےحتمی انجام یعنی تباہی وبربادی سےبچ نہيں سکتی ۔....... /169