ابنا: فلسطيني قیدیوں پر ہونے والے مظالم کا دستاويزي ريکارڈ مرتب کرنے والے تجزيہ کار عبدالناصر فروانہ کے مطابق اسرائيلي انتظاميہ نے عقوبت خانوں ميں 190 کم سن فلسطيني بچوں کو پابند سلاسل بنا رکھاہے۔ عبدالناصر فروانہ نے ايک انٹرويو ميں کہا کہ دوران حراست بچوں کو اذيت ناک تشدد، بليک ميلنگ اور نہايت ظالمانہ طريقے سے ان کے خلاف فوجداري مقدمات بنا کر انہيں پھنسانے کي کوشش کي جاتي ہے حالانکہ يہ تمام اقدامات بچوں کے حقوق کے عالمي معاہدوں کي سنگين خلاف ورزي ہے.عبدالناصر فروانہ نے مزيدکہا کہ اسرائيلي فوج اور پوليس اہلکار انہيں نہايت بے رحمي کے ساتھ ہاتھ پاؤں باندھتے، انہيں ہتھکڑياں ڈالتے اور ان کي آنکھوں پر پٹياں باندھتے ہيں. دوران تفتيش اْنہيں بھي اسي طرح کے تشدد کے حربوں کا سامنا کرنا پڑتا جس طرح بڑي عمر کے جنگي قيديوں کے ساتھ کيا جا سکتا ہے.
انہيں بجلي کے جھٹکے لگائے جاتے ہيں.فلسطيني حکومت کي جانب سے بچوں کے قومي دن پر جاري اعداد و شمار ميں بتايا گيا ہے کہ فلسطين ميں کل آبادي 40 لاکھ 17 ہزار سے زيادہ ہے. ان ميں 20 لاکھ سے زيادہ تعداد اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کي ہے ۔........ /169