5 اپریل 2012 - 19:30

سعودی تجزیہ نگار نے 21 سو سعودی نوجوانوں کی طرف سے مشترکہ بیان کی اشاعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے عوام کے تمام معاملات میں حکومت کی دینی و سیاسی مداخلت کے خلاف یہ بیان جاری کیا ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے تجزیہ نگار عمل الباہلی نے کہا کہ نوجوانوں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے کے سیاسی و سماجی احتیاجات میں اضافہ ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا: آج سعودی عرب میں تمام سیاسی، سماجی اور اقتصادی شخصیات اس ملک کے لئے ترقی اور پیشرفت اور ترقی و پیشرفت کے لئے سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاحات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کے بیان میں مشہور سعودی شخصیات کے نام ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی نوجوان ملک میں اصلاحات کے لئے بالکل سنجیدہ ہیں اور انھوں نے اپنی توجہ ملک کے مستقبل پر مرکوز کی ہوئی ہے حالانکہ اس سے قبل کے بیانات پر مشہور سیاسی و سماجی شخصیات کے دستخط دکھائی دے رہے تھے اور پھر نوجوانوں نے پہلی بار حکومت اور علماء کی طرف سے لوگوں کی عام زندگی سے لے کر مذہبی و سیاسی معاملات میں مداخلت کے خلاف بیان جاری کیا ہے جو بہت اہم ہے۔

انھوں نے کہا: ملک ميں فکری تبدیلیاں کب کی آچکی ہیں لیکن آل سعود کی حکومت نے ان تبدیلیوں کے ساتھ معقول رویہ اختیار کرنے میں ناکام رہی اور اب جو بات یہاں تک پہنچی ہے تو ملکی سطح پر نوجوان میدان میں آچکے ہیں چنانچہ میرا بھی خیال ہے اور کئی دیگر مبصرین کا بھی خیال ہے کہ عربی انقلابات سعودی عرب پر اپنے اثّرات مرتب کررہے ہیں حتی کہ کئی سعودی حکمرانوں سے بھی سنا گیا ہے کہ عربی انقلابات اس ملک کے معاشرے پر اثرانداز ہورہے ہیں؛ اس کے باوجود اس نئے بیان کا ایک خاصہ یہ ہے کہ یہ بیان جامعات کے طلبہ و اساتذہ نے جاری کیا ہے۔

الباہلی نے کہا: بیان پر دستخط کرنے والوں میں درجنوں خواتین کے دستخط دکھائی دے رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی خواتین بھی دوسرے ملکوں کی طرح ملی سیاست اور سماجی امور میں کردار ادا کرنے کی خواہاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی گروہوں نے اپنی آراء پرامن انداز سے بیان کیں لیکن اکثر مواقع پر حکومت نے سخت رویہ اپنایا۔
.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی تازہ ترین صورت حال/ ایک سیاسی راہنما کی رہائی کے لئے مظاہرے