5 اپریل 2012 - 19:30

ایک عرب تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ ملک کی نئی نسل کے درمیان ملک کی سیاسی اور سماجی نظام کی وہابیت سے وابستگی سے سخت ناراض و نالاں ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی تجزیہ نگار و سیاسی راہنما فؤاد ابراہیم نے کہا کہ 21سو افراد نے ایک بیان پر دستخط کئے ہیں جس میں دین اور سیاست کو آل سعود سے وابستہ کئے جانے کی روش پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی اکثریتی نوجوان آبادی ملک کے سیاسی نظام کی وہابی علماء سے وابستگی کے رجحان سے تھک چکی ہے اور رفتہ رفتہ ملک میں فیصلہ سازی کا اختیار حاصل کرنے کی جانب قدم بڑھا رہی ہے۔

انھوں نے کہا: یہ بیان سعودی نوجوانوں کے لئے ایک نیا آغاز ہے اور یہ تبدیلی محض فکری سطح پر دینی اداروں کی مرجعیت کی سرخ لکیر سے عبور کرنے کی وجہ سے ہی نہیں ہے بلکہ سعودی عرب کی سطح پر ایک بہت بڑی سیاسی تبدیلی ہے کیونکہ یہ بیان ملک کے سب سے بڑے طبقے کی جانب سے شائع ہوا ہے اور اس طبقے کے سامنے موجودہ عظیم دیواروں کو منہدم کرچکا ہے اور یہ مسئلہ حکومت اور معاشرے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کہا: مذکورہ بیان کا مضمون نئی نسل اور نئی فکر کا پتہ دے رہا ہے جو موجودہ زمانے کی زبان میں بات کررہی ہے، موجودہ زمانے کی ضروریات سے آگہی رکھتی ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ نسل جزیرہ نمائے عرب پر عشروں سے مسلط نظام کے ساتھ اپنا تعلق توڑ رہی ہے۔

فؤاد ابراہیم نے کہا: جزیرہ نمائے عرب میں نئی افکار اس ملک کی نوجوان نسل کی فکری ترقی اور تبدیلی کی دلیل ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں اب تہذیبی و ثقافتی اعتبار سے نئے رجحانات جنم لے چکے ہیں جو ملک میں مطلوبہ نظام حکومت کے قیام کی جانب قدم بڑھا رہے ہيں اور ایسی صورت حال کی نوید دے ہے ہیں جس میں فکر اور سوچ کی آزادی ہوگی اور ملک میں کھلا سیاسی ماحول قائم ہوگا۔
اس سیاسی تجزیہ نگار نے کہا کہ سعودی عرب کا معاشرہ عنقریب آل سعود کے خلاف علم انقلاب اٹھا کر رہے گا اور عقیدے و رائے کی آزادی کے حق کا بھرپور استعمال کرے گا۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی تازہ ترین صورت حال/ ایک سیاسی راہنما کی رہائی کے لئے مظاہرے