3 اپریل 2012 - 19:30

افغانستان کے مشرقی علاقوں میں طالبان اپنے مخصوص انتہاپسند قوانین لاگو کر رہے ہیں۔

ابنا: صوبہ نورستان کے گورنر کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کے عناصر اس صوبے میں داخل ہوکر لوگوں کو اپنے سخت گیر قوانین پرعمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ محمد زرین نے فارس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی طالبان سرحد پار کرکے افغانستان کے مشرقی علاقے میں داخل ہوتے ہیں اور اس علاقے کے عوام کو اپنے انتہا پسندانہ قوانین پرعمل درآمد کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ محمد زرین نے کہا کہ طالبانی گروہ جن کی تعداد سیکڑوں میں ہے، وادئ سوات سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں اور اب وہ کنڑ اور نورستان میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دراندازی کرنے والے طالبان نے کابل حکومت سے تعاون کے الزام میں بہت سے لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دی ہے جبکہ کامدیش نامی گاؤں کے باشندوں کو گھروں سے نکال کر خود ان کے گھروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ صوبہ نورستان کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔ طالبان آئے دن اس صوبے پر حملے کرتے رہتے ہیں۔......./169