2 اپریل 2012 - 19:30

نماز خلق کا خالق کا ساتھ بہترین رابطہ، بہترین تربیتی حکمت عملی، تہذیب و تزکیۂ نفس اور خودسازی کا بہترین وسیلہ، فحشاء اور منکرات سے روکنے والا عظیم عمل اور قرب الہی کا بہترین سرمایہ ہے اور نماز جماعت مسلمانوں کی قوت و طاقت اور ان کی صفوف کی وحدت و استحکام کا سبب اور مسلمان معاشروں کی طراوت اور کمال و ترقی ک وسیلہ ہے۔

7

جمع بین الصلاتین

(دو نمازیں اکٹھی کرکے پڑھنا)

بحث کا خاکہ

نماز خلق کا خالق کا ساتھ بہترین رابطہ، بہترین تربیتی حکمت عملی، تہذیب و تزکیۂ نفس اور خودسازی کا بہترین وسیلہ، فحشاء اور منکرات سے روکنے والا عظیم عمل اور قرب الہی کا بہترین سرمایہ ہے اور نماز جماعت مسلمانوں کی قوت و طاقت اور ان کی صفوف کی وحدت و استحکام کا سبب اور مسلمان معاشروں کی طراوت اور کمال و ترقی ک وسیلہ ہے۔

نماز ہر شب و روز میں پانچ مرتبہ ادا کی جاتی ہے اور انسان کا قلب اور اس کی روح تسلسل کے ساتھ فیض پروردگار کے اس شفاف چشمے سے طہارت و پاکیزگی کے قطرے نوش کرتی ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز کو اپنی آنکھوں کی روشنی سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں: "قرة عيني في الصلاة"، (1) (میری آنکھوں کی روشنی نماز میں ہے)؛ نماز کو مؤمن کی معراج سمجھتے ہیں اور "الصَّلَوةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ" کی ندا دیتے ہیں (2) اور نماز کو اللہ کے ساتھ پرہیزگاروں کے قرب کا وسیلہ سمجھتے ہوئے فرماتے ہیں: "الصلاة قربان كل تقي"۔ (3)

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پانچ نمازوں کو پانچ الگ الگ اوقات میں جدا (اور تقسیم کرنا) ایک لازمی حکم ہے؟ اگر یہ نمازیں الگ الگ نہ پڑھی جائیں تو کیا "نماز قبل از وقت کی مانند"، باطل ہے؟ یا یہ کہ پانچ نمازوں کو تین اوقات میں بھی پڑھا جاسکتا ہے؟ (وہ یوں کہ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء ملا کر ادا کیا جائے)۔

شیعہ علماء ـ مکتب اہل بیت (علیہم السلام) کا اتباع کرتے ہوئے ـ سب کے سب متفق القول ہیں کہ پانچ نمازوں کی ادائیگی تین وقتوں میں جائز ہے اگرچہ افضل و برتر یہ ہے کہ پانچ نمازیں پانچ الگ الگ اوقات میں بجا لائی جائیں۔

تا ہم اہل سنت کے فقہاء کی اکثریت ـ قلیل فقہاء کے سوا ـ پانچ اوقات میں نماز کی بجاآوری کو واجب سمجھتے ہیں (اور وہ صرف عرفہ کے دن عرفات کے میدان میں نماز ظہر و عصر کو اور عیدالاضحی کی رات مشعرالحرام میں مغرب و عشاء کی نماز اکٹھی ادا کرنے کے قائل ہیں اور ان میں کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جو سفر یا ہجوم و ازدحام کے دنوں ميں ـ جب نماز جماعت کے لئے مسجد میں جانا دشوار ہوتا ہے ـ دو نمازوں کو جمع کرنا، جائز سمجھتے ہیں)۔

شیعہ فقہاء کی رائے ـ جیسا کہ کہا گیا ـ گو کہ پانچ نمازوں کی پانچ الگ الگ اوقات میں بجاآوری کی افضلیت اور برتری پر تاکید کرتے ہیں تا ہم وہ تین وقتوں میں پانچ نمازوں کی ادائیگی کے الہی جواز کو نماز کے مسئلے میں آسانی اور سہولت اور لوگوں کو رخصت اور وسعت دینے کے حوالے سے، خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں جو اسلام کی روح سے ہمآہنگ ہے، کیونکہ اسلام شریعت "شریعتِ سہلہ و سمحہ" ہے (جس میں مسامحت، درگذر اور سہولت و آسانی ہے)؛ اور تجرے سے ثابت ہوا ہے کہ پانچ الگ الگ اوقات میں نماز کی ادائیگی پر اصرار کی وجہ سے کئی لوگ نماز کو بھول جاتے ہیں اور کئی لوگ نماز کو کلی طور پر ترک کردیتے ہیں۔

اسلامی معاشروں میں پانچ الگ الگ اوقاتِ نماز پر اصرار کے اثرات:

اسلام نے روز عرفہ کے ظہر و عصر کو عرفات کے میدان میں اور عیدالاضحی کی شب کو مشعرالحرام میں مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی اد کرنے کی اجازت کیوں دی؟ (4)

اہل سنت کے بہت سے فقہاء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث کے حوالے سے سفر اور مطر (یعنی بارش) کے دنوں میں دو نمازیں اکٹھی کرنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ یقیناً یہ امت کی سہولت کے لئے ہے۔

سہولت اور آسانی پیدا کرنے کے اسباب فراہم کرنے کا یہ اسلامی طریقہ اس امر کا متقاضی ہے کہ دوسرے مسائل و مشکلات میں بھی دو نمازیں اکٹھی کرنے کی اجازت دی جائے؛ ماضی میں بھی اور حال میں بھی۔

ہمارے زمانے میں لوگوں کی زندگی دگرگوں ہوچکی ہے اور ان کی زندگی میں تیزرفتار تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ کارخانوں کے مزدوروں، اداروں کے اہلکاروں اور ملازمین سمیت اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور اساتذہ کے حالات، انہیں پانچ نمازیں الگ الگ اوقات میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتے؛ یعنی یہ کہ پانچ اوقات میں نماز ادا کرنا مشکل اور پیچیدہ ہوجاتا ہے۔

اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقولہ روایات کے مطابق لوگوں کو "جمع بین الصلاتین" کی اجازت دے دی جائے ـ جن پر اہل تشیع کے ائمۂ طاہرین علیہم السلام نے بھی تاکید فرمائی ہے ـ تو لوگوں کو بڑی آسانی اور سہولت ہوگی اور نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور بصورت دیگر ترک نماز کا رجحان بڑھتا رہے گا اور تارکین نماز کی تعداد میں اضافہ ہوگا؛ اور یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ سنی نوجوانوں کی کثیر تعداد نے نماز ترک کردی ہے جبکہ تشیع کے پیروکاروں میں تارکین نماز کی تعداد کم ہے۔

حق تو یہ ہے کہ "بُعِثْتُ إلَى الشَّرِيعَةِ السَّمْحَةِ السَّهْلَةِ" (5)، کے تقاضوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی سے منقولہ متعد دوسری روایات کے تقاضوں کے مطابق، پانچ اوقات کی با جماعت ادائکي کی فضیلت پر تاکید کے ضمن میں، لوگوں کو تین اوقات میں ـ حتی فرادی نمازیں ـ ادا کرنے کی اجازت دیں تا کہ لوگوں کو آسانی ہو اور زندگی کے مسائل ترک نماز کا سبب نہ بنیں۔

اب ہم قرآن مجید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور معصومین علیہم السلام سے منقولہ روایات کی طرف لوٹتے ہیں اور اس مسئلے کا غیرجانبدارانہ اور غیر متعصبانہ انداز سے جائزہ لیتے ہیں۔

جمع بین الصلاتین کے بارے میں منقولہ روایات

صحيح مسلم، صحیح بخارى، سنن ترمذى، موطّأ مالك، مسند احمد، سنن نسائى، مصنف عبدالرزاق الصنعانی اور دیگر کتب ـ جو اہل سنت کے مشہور، معتبر اور جانے پہچانے منابع حدیث سمجھی جاتی ہیں ـ میں سفر، بارش اور ضرر و زیاں کے خطرے کے بغیر بھی ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کرنے کے حق میں، 30 کی لگ بھگ روایتیں نقل ہوئی ہیں اور ان میں سے اکثر روایات پانچ مشہور راویوں سے نقل ہوئی ہیں:

1ـ عبدالله ابن عبّاس

2ـ جابر بن عبدالله انصارى

3ـ ابوايّوب انصارى

4ـ عبدالله بن عمر

5ـ ابوهريره

ان تیس روایتوں میں سے بعض کو اگلے صفحات پر نقل کیا جائے گا:

1۔ ابوالزبیر کی روایت

ابوالزبیر نے سعید بن جبیر اور عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے:

"صلّى رسول الله(صلى الله عليه وآله) الظهر والعصر جميعاً بالمدينة فى غير خوف و لا سفر"

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ میں ظہر و عصر کی نمازیں اکٹھی ادا کیں جبکہ (آپ (ص) اور ہم مدینہ میں تھے اور) نہ تو کسی قسم کا کوئی خوف تھا اور نہ ہی سفر کی حالت میں تھے۔

ابوالزبیر کہتے ہیں: میں نے ابن جبیر سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایسا کیوں کیا؟

سعید بن جبیر نے کہا: میں نے بھی یہی