1 اپریل 2012 - 19:30

چين نے کہا ہے کہ وہ ايران سے تيل کي خريداري کے معاملے ميں کسي بھي ملک کي پيروي نہيں کرے گا-

ابنا: چين کي قومي توانائي کے شعبے کے سابق سربراہ جيانگ گوباؤ نے کہاکہ بيجنگ ايران سے تيل کي خريداري جاري رکھے گا اور وہ اس مسئلے ميں کسي بھي ملک کي بات نہيں مانے گا -  انہوں نے کہا کہ چين صرف اپني ضروريات کو ہي مدنظر رکھے گا –مارکيٹ واچ ويب سائٹ کے مطابق جيانگ گوباؤ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دوسرے ملکوں سے امريکا کے اس مطالبے سے کہ وہ ايران سے تيل نہ خريديں عالمي منڈيوں ميں تيل کي قيمتوں ميں اضافہ ہوا ہے اور عالمي معيشت کو اس سے نقصان پہنچے گا کہا کہ معاشي کساد بازاري کے ساتھ تيل کي قيمتوں ميں اضافہ تيل کي ڈيمانڈ پر بھي اثر انداز ہوسکتا ہے –

دوسري طرف چين کي تيل اورکيميکل کمپني سينوپک کے ڈائريکٹر جنرل نے بھي کہا ہے کہ ايران کے تيل کا بائيکاٹ کئے جانے سے تيل کي قيمتوں ميں اضافہ ہوگا اور اس سے عالمي معيشت کو بہتر بنانے کے عمل کو نقصان پہنچے گا –چين کي وزارت خارجہ نے بھي اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ بيجنگ نے ہميشہ خود مختار ملکوں کے خلاف خود سرانہ پابنديوں کي مخالفت کي ہے اور وہ ايران کے تيل کو خريدنےوالے ملکوں پر امريکي صدر باراک اوباما کي طرف سے لگائي گئي پابنديوں کو قبول نہيں کرتا -واضح رہے کہ چين ايران کے تيل کے بڑے خريدار ملکوں ميں سے ايک ہے -  ماہرين کا کہنا ہے کہ مغرب کي طرف سے ايران کے تيل پر   خودسرانہ اور غيرقانوني پابندي کافيصلہ بيہودہ عمل ہے اور مغرب کا يہ حربہ شکست سے دوچار ہوگا ماہرين کا کہنا ہے کہ اس سے ايران کي معيشت کو کوئي نقصان نہيں ہوگا -.......

/169