25 مارچ 2012 - 19:30

اوقاف و آثارکے ادارے" الاقصی" نے مقبوضہ فلسطین اور مسجد الاقصی کے خلا ف صیہونی حکومت کی نئی سازشوں کی طرف سے خبردار کیا ہے .

ابنا: صہیونی ریاست کی بلدیہ نےحال ہی میں مقبوضہ قدس میں ایک نئی منصوبہ بندی کے ذریعے مسجد الاقصی کے مشرق میں واقع "باب الرحمہ" قبرستان کو ایک باغ میں تبدیل کرنے کافیصلہ کرکے اس پر عمل درآمد بھی شروع کردیا ہے۔

ادارہ" الاقصی" نےایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ دائیں بازو کی جماعتیں اسرائیلی عدلیہ کی مدد سے اس منصوبے پرعمل درآمد کی کوششیں کرر ہی ہیں۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ چوبیس مارچ کوہفتہ کے دن بیس صہیونی بستیوں کے لوگ مسلمانوں کے اس قبرستان میں داخل ہوئے اور رقص کرتے ہوئے ٹھوکروں کے ذریعےقبروں کی بے حرمتی کی۔باب الرحمہ قبرستان مسلمانوں کا چودہ سو سال پرانا ایک تاریخی قبرستان ہے اوریہ مسجد الاقصی کے بارہ دروازوں میں سے ایک بڑا دروازہ شمار ہوتا ہےمقبوضہ فلسطین کی سر زمین پر مسلمانوں کے تاریخی قبرستانوں کی تخریب کاری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ "مامن اللہ" نامی قبرستان میں، صہیونیوں کے ہاتھوں تین سو پچاس قبروں کی تخریب پر،کہ جہاں صدر اسلام کی بہت سی ‏عظیم شخصیتوں کی قبریں بھی موجود ہیں عالمی برادری سمیت اقوام متحدہ کے علمی و ثقافتی ادارے یونسکو نےبھی بارہا رد عمل ظاہر کیا ہے اس کے علاوہ ادھر ایک سال سے مسجد الاقصی کےمغربی دروازے "دارالمغابہ" کو بھی خراب کرکے اس تاریخی دروازے کو بھاری نقصان سے دوچار کیا جا چکا ہے۔" بیت المقدس" ایک مقبوضہ علاقہ ہے جوانیس سو سڑسٹھ کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیلی فوج کے تسلط میں آگیا تھا اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق یہ ایک مقبوضہ علاقہ شمار ہوتا ہے اور صیہونی حکومت کو اس میں ذرہ برابر بھی دخل و تصرف کا حق حاصل نہیں ہے لیکن بیت المقدس پرقبضے کی چار دہا‏ئیوں کے دوران نہ صرف یہ کہ صہیونی ریاست نے قدس کےتاریخی آثار مٹانے کے اقدامات کئے ہیں بلکہ فلسطینی سرزمینوں پر صہیونی کالونیوں کی تعمیروتوسیع اور ان کالونیوں میں مہاجرین کو آباد کرنے کے ساتھ ہی ساتھ خود فلسطینوں کو ان کے گھروں اور کاشانوں سے نکال کرآوارہ وطنی کی زندگی بسر کرنے پر بھی مجبور کردیا ہے۔ ظاہر ہے، بیت المقدس پر قبضے کے پہلے ہی دن سے یہ بات واضح ہو گئی تھی صہیونی حکام کا اصلی مقصد مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصی کو خراب کرنا ہے ۔مسجد الاقص کے صحن کے نیچے سرنگ کا کھودنا ، مسجد میں داخلے کے صدر دروازے کو خراب کرکے ٹاور بنانا اور مسجد الاقصی کے قریب جواخانہ اور تفریحی مراکز بنانا صہیونی ریاست کے وہ سیاہ کارنامے ہیں جس کے بارے میں حالیہ دہائیوں کے دورانمنصوبہ بندی کے ساتھ عمل در آمد ہوا ہے تل ابیب کے حکام کی تلاش و کوشش قدس شریف کے دینی، قومی اور تاریخی تشخص اور پہچان کو مٹانے پر مرکوز ہیں اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کی جانب سے قدس اور دریائے اردن کا مغربی کنارہ پر اسرائیلی مداخلت اور تصرف کے خلاف پانچ تازہ قرار داد یں منظور کئے جانے کے باوجود ، اس بار قدس کے دینی اور تاریخی مقامات اور مسجدیں صہیونیوں کی وحشیانہ یلغار کا نشانہ بنی ہیں۔........ /169